سرمد صہبائی

سرمد صہبائی

آسیبی بچے کا گیت

    میرے سر پر اک خونی عورت کا بھوت ہے جس کے تھنوں کے بیچ اندھیری رات کا تل ہے اور دانتوں میں پہلے چاند کی نعل کھنچی ہے آدھی رات کو اس کی صورت میرے لہو کے انگارے میں ڈھل جاتی ہے اس کی گود میں میری شکل بدل جاتی ہے میں لبریز تھنوں سے گہرے غش کو پی کر سو جاتا ہوں اس کی کوکھ کے بل کھاتے دوزخ میں جل کر بجھ جاتا ہوں چڑھے دن کے دروازے پر میری شباہت آگ کا سرخ الاؤ بن کر لہراتی ہے اور بدن کی راکھ ڈراؤنے سپنے بن کر اُڑ جاتی ہے