وہ پھول کاڑھتی رہی
-
خزان کی زرد شال پر وہ پھول کاڑھتی رہی اُجڑتے ماہ و سال پر وہ پھول کاڑھتی رہی دِلوں کے مرغزار میں عجب اُداس شام تھی گزرے پَل کے ہونٹ پر وہ منتشر سا نام تھی دُکھوں کی تند دھار پر لہو لہان اُنگلیاں مگر وہ سانس سانس اپنی عمر کے لباس پر لہو کشیدتی رہی گلاب سینچتی رہی خزاں کی زرد شال پر اُجڑتے ماہ و سال پر وہ پھول کاڑھتی رہی وہ پھول کاڑھتی رہی