کوئی پھول کو دیکھ لے
-
شام ہونے سے پہلے ہوا کے ٹھہرنے سے پہلے کوئی پھول کو دیکھ لے اپنی مستی میں سرشار مخروط انگڑائیاں خود سے لپٹی پُراسرار سرگوشیاں کوئی تنہائیوں کے بیابان کو رس بھرے بھید میں گوندھ لے نرم ٹہنی کو آغوش میں تھام کر لاج سے تمتماتی ہوئی پنکھڑی پر جھکے سُرخ تالو کو چکھے اسے چوم لے شام ہونے سے پہلے ہوا کے ٹھہرے سے پہلے کوئی پھول کو دیکھ لے