سرمد صہبائی

سرمد صہبائی

یہیں کہیں انہی بازاروں میں

    یہیں کہیں! انہی بازاروں میں ہم بچھڑے تھے اِک دھچکے میں بکھر گئی تھیں ساری عمریں تُند ہجوموں میں ساکت تھیں ہانپتی شکلیں مَیں نے دیکھا یہیں کہیں ترا ہاتھ تھا لیکن تیرے جیسے ہونٹ نہیں تھے، ہونٹ تھے لیکن تیرے جیسا جسم نہیں تھا پلک جھپکتے شہر کا نقشہ بدل گیا تھا یوں لگتا تھا اس بازار نے جیسے تجھ کو نگل لیا تھا شکل بدلتی شکلوں کی اِس بھیڑ میں پل بھر جیسے ایک بھنور سا اُبھرا اور پھر ویسی ہی رونق تھی کُھلی دکانوں، بھاگتی کاروں فٹ پاتھوں پر چلتے لوگوں کے چہروں پر اِک گونگی سی لا علمی تھی