شادی کی سالگرہ پر نظم
تُو اپنے دونوں ہاتھوں میں سارے دن کا راشن تھامے شہر کے گدلے فٹ پاتھوں پر چلتے چلتے جانے دل میں کیا کیا سوچتی جاتی ہے بَس میں بیٹھا، میں اپنی خالی آنکھوں سے بھاگتی کاروں کھلی دکانوں کے شیشوں کو بے معنی بے مقصد گھورتا رہتا ہوں سگریٹ کے مرغولوں میں بے مصرف دھیان کو اُلٹتا پلٹتا رہتا ہوں شام کو جب ہم گھر لوٹیں گے تھکے ہوئے جسموں سے دن کی گرد اُڑے گی تو باورچی خانے میں اور میں اپنے کمرے میں بند دونوں اپنی اپنی گرد سمیٹیں گے شادی والے سرخ پلنگ پر اِک دوجے سے منہ کو موڑے بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاء اور رنگ برنگی بورڈوں میں سے دانت نکالتی خوشحالی کا لالچ اُوڑھ کے سو جائیں گے