سرمد صہبائی

سرمد صہبائی

ہم مومنوں میں سے تھے

    ہم مومنوں میں سے تھے مسکراتے رہے دعوتوں دفتروں ریستورانوں میں ہم مسکراتے رہے صبح کے سات سے شام کے چھ بجے عینکوں مفلروں اور مونچھوں کے پیچھے کھڑے چھوٹی چھوٹی سی آسان قسطوں میں جیتے رہے مسکراتے رہے مسکرانا ہمارا مقدر تھا ہم باس کے سامنے گاہکوں میہمانوں کے آگے کبھی دوستوں دشمنوں کے لیے آئینے میں کبھی اپنے ہی عکس کو دیکھ کر مسکراتے رہے مومنوں میں سے تھے مسکراتے رہے نیک ماؤں کو ہم نے بتایا کہ ہم نیند میں بڑبڑاتے ہیں خوابوں کے سائے سے ڈرتے ہیں لیکن ہمارے لیے مسکراہٹ تسلی تھی آتے دِنوں کا دلاسا تھا اور مو ت کے روز کانوں کی کھونٹی پہ لٹکے ہوئے ہونٹ اپنی گواہی تھی ہم عاقبت اور جزا کے لیے مسکراتے رہے مومنوں میں سے تھے، مسکراتے رہے