سرمد صہبائی

سرمد صہبائی

جنگلی کہانی

    مَیں نے دھرتی کے سینے میں گندم کا اِک دانہ بویا چڑھتے موسم کی چھاؤں میں پیڑ سے پہلا پھول اُتارا سورج ڈھلتے مَیں دریا سے مچھلی لایا تُو نے گھر میں آگ جلائی اور بالوں میں پھول سجایا ­­­ آگ ہوا پانی اور مٹی گوندھ کے ہم نے اِک دوجے کی شکل بنائی میرے بدن سے بادل بن کر اِک دیومالا تیری گود میں آن سمائی