سرمد صہبائی

سرمد صہبائی

ایسے بھی کچھ دن ہوتے ہیں

    ایسے بھی کچھ دن ہوتے ہیں جن کی جیب میں نہ اخبار نہ گھڑیوں کے بیکار اَلارم چڑھتے اور اُترتے بھاؤ، کچھ نہیں ہوتا اُن کے منہ میں افواہوں کی جھاگ نہ اُن کے چہروں پر کسی ڈراؤنی سازش کی دہشت ہوتی ہے بھولے بھالے سے معصوم یہ دِن ایسے دِنوں میں لاؤڈ سپیکر شہر سے ہجرت کر جاتے ہیں بازاروں میں ساری دکانیں یک دم غائب ہو جاتی ہیں جلسے اور جلوس کی رسمیں مٹ جاتی ہیں اِن کی کُھلی ہوئی کھڑکی سے ناں تو یخ آلود ہوا آتی ہے اور ناں ان کے دالانوں میں لُو چلتی ہے اِن کا تو بس اپنا ہی موسم ہوتا ہے گردن میں پھولوں کے مفلر کانوں میں بل کھاتی مندری جھومتے ننگ منگے سے دن یہ دن یہ دن بے موسم پیڑوں سے تازہ سیب چرا کر جسموں کے پاتال میں سوئی اِک جنگلی دیومالا آن جگا دیتے ہیں جانے کیسے دروازوں سے اَزلوں کی سرگوشی بن کر چھا جاتے ہیں