شہر کے وسط میں بت
مرے سامنے لوگ ہر روز شہروں میں پھیلے ہوئے زائچوں کی بجھارت میں تقسیم ہوتے ہیں جینے کی خواہش میں اپنا بدن کاٹ کر شام کو بیویوں کے لیے جھوٹے خوابوں کے تحفے لیے اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹتے ہیں مری آنکھ بے نم مرا جسم پتھر گلی میں کوئی دُھندلے شیشوں کے پیچھے کسی آنے والے کے قدموں کی آہٹ کو سنتا ہے بانہوں کے کشکول میں کھوٹے وعدوں کے سکے بکھرے ہیں اس کو بھلا کھوٹے سکوں کی پہچان کب ہے وہ آتے دِنوں کے لیے اُن کو محفوظ کرتی ہے ہر رات سائے کی مانند اپنے بدن سے گزرتی ہے لیکن مری آنکھ بے نم مرا جسم پتھر دھوئیں میں اُلجھتے ہوئے خواب خوابوں میں چلتے ہوئے جسم سایوں میں تحلیل ہوتے ہوئے رنگ در رنگ لذت میں بھیگی ہوئی لڑکیاں ذائقوں کی حرارت میں گھلتی رہیں روح کی بھاپ اور خون کی جھاگ میں پائیدانوں پہ بجھتے ہوئے سگرٹوں کی طرح عمر بکھری رہی اور مری آنکھ بے نم مرا جسم پتھر مرے سامنے ماؤں نے چھاتیوں سے انہیں نوچ کر شاہراہوں پہ پھینکا کہیں بھیڑ میں باپ نے اپنی انگلی چھڑا کر ہمیشہ سے گمنام رستے کی رہ لی سیہ بخت گلیوں نے مجبور ہو کر چوراہوں پہ اُگلا کہ سڑکوں پہ رونق رہے چوک میں چاندنی ہو، دکانیں کھلیں شہر بستے رہیں میرے قدموں کے ساحل پہ ہر روز وہ خواہشوں کی چمکتی ہوئی سیپیاں بیچتے ہیں مری آنکھ بے نم مرا جسم پتھر مرے سامنے لوگ چاروں طرف شہر در شہر، گلیوں مکانوں سے اُجڑی ہوئی بستیوں سے نکل کر مری سمت بڑھتے ہیں میں خاک کے سرد تابوب میں قید صدیوں سے گونگی بلندی پہ آ کر کھڑا ہوں مری آنکھ بے نم مرا جسم پتھر