سرمد صہبائی

سرمد صہبائی

ایک سیدھی سی لڑکی کے لیے نظم

    تو اِک سیدھی سی لڑکی ہے تو کیوں اپنے آپ کو اُلٹا پہن کے پھرتی رہتی ہے جس پَل مُرجھائے ہونٹوں پر تیری خواہش آہستہ سے بھر آتی ہے اک اَن دیکھے خوف کی ڈائن تیری آنکھ میں دَر آتی ہے پَل بھر ہنس کر سارا دِن پھر اپنے آپ پہ پچھتاتی ہے بے معنی باتوں سے اپنا جی گدلاتی رہتی ہے تُو اِک سیدھی سی لڑکی ہے تُو کیوں اپنے آپ کو اُلٹا پہن کے پھرتی رہتی ہے دیکھ ترے بھاری سینے کے مٹیالے دریا پر میری پیاس جھکی ہے میرے ہاتھوں کے ساحل پر تیرے لمس کی جھاگ بچھی ہے خوابوں کے چشمے میں خود کو عُریاں دیکھ کے ڈر جاتی ہے تُو اِک سیدھی سی لڑکی ہے تُو کیوں اپنے آپ کو اُلٹا پہن کے پھرتی رہتی ہے