یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

ہنوز زندگی تلخ کا مزہ نہ ملا

    ­ ہنوز زندگی تلخ کا مزہ نہ ملا کمال صبر ملا صبر آزما نہ ملا مری بہار و خزاں جس کے اختیار میں تھی مزاج اُس دل بے اختیار کا نہ ملا امید وار رہائی قفس بدوش چلے جہاں اشارہ توفیقِ غائبانہ ملا ہوا کے دوش پہ جاتا ہے کاروانِ نفس عدم کی راہ میں کوئی پیادہ پا نہ ملا خوشا نصیب جسے فیضِ عشقِ شور انگیز بقدرِ ظرف ملا، ظرف سے سوا نہ ملا امید و بیم نے مارا مجھے دوراہے پر کہاں کے دیر و حرم؟ گھر کا راستا نہ ملا سمجھ میں آگیا جب عذرِ فطرتِ مجبور گناہ گارِ ازل کو نیا بہانہ ملا بجز ارادہ پرستی خدا کو کیا جانے وہ بد نصیب جسے بختِ نارسا نہ ملا نگاہِ یاسؔ سے ثابت ہے سعئ لاحاصل خدا کا ذکر تو کیا بندہ خدا نہ ملا