دھواں سا جب نظر آیا سوادِ منزل کا
دھواں سا جب نظر آیا سوادِ منزل کا نگاہِ شوق سے آگے تھا قافلہ دل کا چراغ لے کے کسے ڈھونڈتے ہیں دیوانے نشاں دور ہے یاں نام تک نہیں دل کا کبھی تو موج میں آئے گا تیرا دیوانہ اشارہ چاہیے ہے جنبشِ سلاسل کا ازل سے اپنا سفینہ رواں ہے دھارے پر ہوا ہنوز نہ گرداب کا نہ ساحل کا نہ سر میں نشہ ہے باقی نہ دل میں کیفیت زباں پہ رہ گیا اک ذکرِ خیر محفل کا نہ جانے جھوٹ ہے یا سچ ہے وعدۂ فردا اجل پہ فیصلہ ٹھہرا ہے حق و باطل کا پرائی موت کا احساں بھی ہے ہمیں منظور کہیں طلسم تو ٹوٹے ازل کی منزل کا حضورِ دوست یگانہ کچھ ایسے غائب تھے زبانِ گنگ تک آیا نہ ماجرا دل کا