کدھر چلا ہے ادھر ایک رات بستا جا
کدھر چلا ہے ادھر ایک رات بستا جا گرجنے والے گرجتا ہے کیا برستا جا دکھا دے خاک کے پتلوں میں زور کتنا ہے ہوا پہ تیر چکا، اب زمیں میں دھنستا جا رلا رلا کے غریبوں کو ہنس چکا کل تک مری طرف سے اب اپنی دسا پہ ہنستا جا جفائے پنجۂ خوں خوار سے جو بس نہ چلے تو بن کے خشک نوالہ گلے میں پھنستا جا علاجِ اہلِ حسد، زہرِ خند مردانہ ہنسی ہنسی میں تو ان احمقوں کو ڈستا جا بقدرِ ذوق تماشائے حُسن ناممکن ترسنے میں بھی ہے اک کیفیت ترستا جا تو آپ اپنی ہے شمشیر آپ اپنی سیر یگانہ باگ اُٹھا اپنے بل پہ کستا جا