یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

کون ایسا ہے جاننے والا

    کون ایسا ہے جاننے والا جان کر تجھ کو ماننے والا پہلے اپنی ذات تو پہچانے رازِ قدرت بکھاننے والا پیٹ کے ہلکے لاکھ بڑ ماریں کوئی کھلتا ہے جاننے والا جان کر اور ہو گیا انجان ہوتو ایسا ہو جاننے والا دن کو دن سمجھےاور رات کو رات وقت کی قدر جاننے والا حسنِ کافر ،گناہ کا پیاسا بے گناہوں کو ساننے والا تو نے سمجھا مجھے تو کیا جانا تجھ سے اچھا نہ جاننے والا چِت بھی اپنی ہے پَٹ بھی اپنی ہے میں کہاں ہار ماننے والا خاک میں مل کے پاک ہو جاتا چھانتا کیا ہے چھاننے والا کیوں نہ مانے یگانہ کو یکتا اصل کو ایک جاننے والا