یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

جب تک خلشِ دردِ خداد رہے گی

    جب تک خلشِ دردِ خداد رہے گی د نیا دلِ ناشاد کی، آباد رہے گی دنیا کی ہوا راس نہ آئے گی کسی کو ہر سر میں ہوائے عدم آباد رہے گی چونکائے گی رہ رہ کے تو غفلت کا مزہ کیا ساتھ اپنے اجل صورتِ ہمزاد رہے گی روح اپنی ہے بیگانۂ ہر جنت و دوزخ گم ہو کے ہر اک قید سے آزاد رہے گی دل اور دھڑکتا ہے ادب گاہِ قفس میں شاید یہ زباں تشنۂ فریاد رہے گی جو خاک کا پُتلا، وہی صحرا کا بگولا مٹنے پہ بھی اک ہستیِ برباد رہے گی شیطان کا شیطان فرشتے کا فرشتہ انسان کی یہ بُوالعجبی یاد رہے گی ہاں وسعتِ زنجیر تک آزاد بھی ہوں میں ہستی مری مجموعۂ اضداد رہے گی ہرشام ہوئی صبح کو اک خوابِ فراموش دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی شہرہ ہے یگانہ تری بیگانہ روی کی واللہ یہ بیگانہ روی یاد رہے گی