سجدۂ صبح شام کیا کرتا
-
سجدۂ صبح شام کیا کرتا غائبانہ سلام کیا کرتا جو نہ سمجھے خود اپنا مطلبِ شوق وہ پیام و سلام کیا کرتا جسے چاہا بنا لیا دیوتا بندۂ بے امام کیا کرتا نہ چلی کچھ تو بد دعا ہی سہی دہنِ بے لگام کیا کرتا جس کی تلوار کا ہو لوہا تیز حجتِ نا تمام کیا کرتا وقت جس کا کٹے حسینوں میں کوئی مردانہ کام کیاکرتا مجھ پہ معنی شناس پر جادو حسنِ صورت حرام کیا کرتا بندۂ خاص پر مرا مولا نگہِ فیضِ عام کیا کرتا یہ مساوات ، تحفۂ ناچیز وہ یگانہ کے نام کیا کرتا