روک لیتا، نہیں روکا ترا رستہ میں نے
روک لیتا، نہیں روکا ترا رستہ میں نے عمرِ رفتہ تجھے جاتے نہیں دیکھا میں نے میرے صیّاد تو ناراض ہے نا حق مجھ سے صرف پر توڑے ہیں پنجرا نہیں توڑا میں نے میری آواز مرے جسم سے باہر نہ گئی اپنے اندر تو بہت شور مچایا میں نے اس میں اک اور ہی انداز کی گہرائی ہے بند آنکھوں سے جو چہرہ ترا دیکھا میں نے بس فرائض کی محبت میں گرفتار رہا عشق کو اتنا ضروری نہیں سمجھا میں نے لوگ انسان کو گمراہ بھی کر دیتے ہیں سو کسی شخص سے رستہ نہیں پوچھا میں نے سال ہا سال سے آنکھیں یونہی وا ہیں میری اور ابھی دیکھی نہیں صورتِ فردا میں نے