انجم خیالی

انجم خیالی

حکایتِ ستمِ روزگار کہتے ہیں

    حکایتِ ستمِ روزگار کہتے ہیں مگر برنگ لب و زلف یار کہتے ہیں عجیب لوگ ہیں نو واردانِ صحنِ چمن ثمر سی شے کو درختوں کا بار کہتے ہیں وہ جس گھڑی لبِ غنچہ کی مہر ٹوٹتی ہے اسے ہم اپنی زباں میں بہار کہتے ہیں دو چار شخص گزرتے ہیں ایک جانب سے پھر اس کے بعد اسے رہگزار کہتے ہیں تمہارے بس میں ہے قول و قرار کی عشرت مگر نہیں ہے جسے، انتظار کہتے ہیں