کوئی تہمت ہو، مرے نام چلی آتی ہے
-
کوئی تہمت ہو، مرے نام چلی آتی ہے جیسے بازار میں ہر گھر سے گلی آتی ہے تیری یاد آتی ہے اب کوئی کہانی بن کر یا کسی نظم کے سانچے میں ڈھلی آتی ہے اب بھی پہلے کی طرح پیش روِ رنگ و صدا ایک منہ بند سی بے رنگ کلی آتی ہے چل کے دیکھیں تو سہی کون ہے یہ دخترِ زر روز اوّل سے جو بدنام چلی آتی ہے یہ مرے کرب کا عالم رہے یارب آباد اس زمیں سے بوئے اولادِ علی آتی ہے