اس غم کے سفر میں نئی راہیں نکل آئیں
-
اس غم کے سفر میں نئی راہیں نکل آئیں آنسو تو نکلتے تھے، اب آنکھیں نکل آئیں میں ڈھونڈ رہا تھاکوئی پوشیدہ خزانہ اس میں مرے اجداد کی قبریں نکل آئیں ہم قافلے والوں کی بیابان میں اب تک جانیں تو نہیں نکلیں، زبانیں نکل آئیں غم تجھ سے بچھڑنے کا جو تھا اب بھی وہی ہے یوں ہے کہ شجر کی کئی شاخیں نکل آئیں آزادی کے دن ہم نے زیادہ نہیں دیکھے پر ہم نے نکالے توغلیلیں نکل آئیں اب خاک بسر، چاک گریباں نہیں رہتے فریاد کی کچھ اور بھی طرزیں نکل آئیں