انجم خیالی

انجم خیالی

ہم نئی بستیاں بساتے ہیں

    ہم نئی بستیاں بساتے ہیں ہمیں ویرانے راس آتے ہیں بہتے رہتے ہیں کس لیے آنسو کون سی آگ یہ بجھاتے ہیں کیا غنیمت نہیں ہماری ذات لوگ ہنستے ہیں، مسکراتے ہیں سانس کی آنچ سہہ نہیں سکتے کانچ کے لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ہم نہیں مچھلیاں سمندر کی پھر بھی اک دوسرے کو کھاتے ہیں پہلے ساقی ہمیں پلاتا تھا آج کل ہمیں اسے پلاتے ہیں