انجم خیالی

انجم خیالی

دیے جلا کے ندی میں بہایا کرتا تھا

    دیے جلا کے ندی میں بہایا کرتا تھا فلک کو اپنے ستارے دکھایا کرتا تھا چہار سمت محبت کے بھیجتا تھا رسول میں گھر کی چھت پہ کبوتر اُڑایا کرتا تھا مرے مزاج پہ غربت کی کوئی چھاپ نہ تھی میں ریت کے بھی محل ہی بنایا کرتا تھا ہزار بار بھی میں دیکھتا تھا نقش اس کے تو واپسی پہ انہیں بھول جایا کرتا تھا امیدِ دید سے پہلے مجھے نہیں معلوم میں کس خوشی کے لیے غم اُٹھایا کرتا تھا اٹھایا کرتا تھا آواز ہر ستم کے خلاف جہاں کوئی نہیں جاتا، میں جایا کرتا تھا اسی لیے تو مرا کاٹنا ضروری تھا میں رہ کے دھوپ میں اوروں پہ سایا کرتا تھا