جاں قرض ہے، سو اتارتے ہیں
-
جاں قرض ہے، سو اتارتے ہیں ہم عمر کہاں گزارتے ہیں شامیں ہیں وہی، وہی ہیں صبحیں گزرے ہوئے دن گزارتے ہیں اس نام کا کوئی بھی نہیں ہے جس نام سے ہم پکارتے ہیں بے ننگ ہیں بے لباس ہیں ہم دامن ہے، نہ ہم پسارتے ہیں گنتے ہیں تمام رات تارے ہم رات یونہی گزارتے ہیں پچکے ہوئے گال، زرد چہرے جذبات بہت ابھارتے ہیں