انجم خیالی

انجم خیالی

رہروِ دشت، یہاں خاک اڑا کرتی ہے

    رہروِ دشت، یہاں خاک اڑا کرتی ہے تیز آ ندھی میں تو پوشاک اڑا کرتی ہے جتنی بھرپور بہار آتی ہے اتنی بھرپور آندھیاں چلتی ہیں اور خاک اڑا کرتی ہے یوں تو چڑیا کا بدن کیا ہے، جگر کتنا ہے بھوک لگتی ہے تو بے باک اڑا کرتی ہے آسمانوں کا محقق تو نہیں ہو سکتا باز اڑتا ہے کہ خوراک اڑا کرتی ہے وہ جو سہمی ہوئی رہتی تھی قفس میں قمری کیا اب آفاق میں بے باک اڑا کرتی ہے