انجم خیالی

انجم خیالی

آ، ہجر کے ڈر نکالتے ہیں

    آ، ہجر کے ڈر نکالتے ہیں رستوں سے سفر نکالتے ہیں اشجار میں رہ کے بھی پرندے پتے نہیں پر نکالتے ہیں پتھر میں کہیں تو ہے وہ صورت جو اہلِ ہنر نکالتے ہیں افسوس کہ غوطہ زن ہمارے اجرت پہ گہر نکالتے ہیں اب آنکھیں نہیں نکالی جاتیں آنکھوں سے نظر نکالتے ہیں