وہ صورتیں جو کبھی بام پر نہیں آتیں
-
وہ صورتیں جو کبھی بام پر نہیں آتیں برنگِ لالہ و گل بھی نظر نہیں آتیں کچھ آفتاب کی کرنوں پہ ہی نہیں موقوف کئی شعاعیں غریبوں کے گھر نہیں آتیں دراز و دور کے ملکوں میں بھی سجن ہیں مرے مگر زبانیں مجھے بیشتر نہیں آتیں دھوئیں کے ابر تو کثرت سے آتے رہتے ہیں برسنے والی گھٹائیں ادھر نہیں آتیں شعاعیں شیشہ نازک سے چھن کے آتی ہیں مگر کہیں سے بھی کچھ توڑ کر نہیں آتیں ہجومِ شہر سے انکار کون کرتا ہے مگر ہمیں کئی شکلیں نظر نہیں آتیں