انجم خیالی

انجم خیالی

جیسے پنجرے میں پرندہ کوئی

    جیسے پنجرے میں پرندہ کوئی میرے اندر بھی ہے ایسا کوئی رنگ و آہنگ کی گہرائی نہ پوچھ ڈوب کر پھر نہیں ابھرا کوئی آنکھ بھر کر نہیں دیکھا ہم نے کہیں ہو جائے نہ میلا کوئی سامنے ہوتے ہوئے اوجھل ہیں ایسی صورت کا نہ ہوگا کوئی چند دھندلائی ہوئی یادیں ہیں اِن سے بنتا نہیں چہرہ کوئی کھوکھلا پیڑ تھا، دیکھا تو لگا کھا گیا ہے اسے صدمہ کوئی