اندھیری رات میں تنہا سفر اچھا ہی رہتا ہے
اندھیری رات میں تنہا سفر اچھا ہی رہتا ہے کوئی جب ساتھ ہوتا ہے تو پھر کھٹکا ہی رہتا ہے کنارے کی طرح اس سے جدا ہم رہ نہیں سکتے وہ دریا کی طرح ہے چھوڑ کے جاتا ہی رہتا ہے سرابوں کے تعاقب میں جہاں رفتار لازم ہے وہاں سستا بھی لیں تو فاصلہ اتنا ہی رہتا ہے ضمیرِ آدمی مفلس نہیں ہوتا غریبی میں کہ مٹی میں بھی پھولوں کا بدن اجلا ہی رہتا ہے درِ دیر و حرم چھوڑا نہیں کوئی زمانے میں جو رہتا ہے تو اب توبہ کا دروازہ ہی رہتا ہے کسی کو نیند سے بیدار مت انجم خیالی کر کہ جس کے جاگنے والے ہوں وہ سوتا ہی رہتا ہے