مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا
مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا وہ میرے بعد مری زندگی میں آئے گا یہاں کی بات الگ ہے، جہانِ دیگر سے میں کیسے آؤں گا مجھ کو اگر بلائے گا جسے ہنسی بھی مرے حال پر نہیں آتی وہ خود تو روئے گا، اوروں کو بھی رُلائے گا بچھڑ کے اس کو گئے آج تیسرا دن ہے اگر وہ آج نہ آیا تو پھر نہ آئے گا جو ہم نہ تھے تو فلک مہر آشنا تھا کیا جو ہم نہ ہوں گے تویہ کیا ستم نہ ڈھائے گا فقیہہِ شہر کے بارے میں میری رائے تھی گناہگار ہے، پتھر نہیں اُٹھائے گا اسی طرح در و دیوار تنگ ہوتے رہے تو کوئی اپنے لیے گھر نہیں بنائے گا ہمارے بعد یہ دار و رسن نہیں ہوں گے ہمارے بعد کوئی سر نہیں اُٹھائے گا