اے شبِ غم جو ہم بھی گھر جائیں
-
اے شبِ غم جو ہم بھی گھر جائیں شہر کس کے سپرد کر جائیں کیسا سودا سما گیا سر میں سر سے طغیانیاں گزر جائیں کتنی اطراف کتنے رستے ہیں ہم اکیلے کدھر کدھر جائیں ہم وہ در ڈھونڈتے ہیں جس در پر بے ہنر اور بے بصر جائیں ایک ہی گھر میں قید ہے سلطان ہم بھکاری نگر نگر جائیں آنکھ جھپکیں تو اتنے عرصے میں جانے کتنے برس گزر جائیں صورت ایسی بگاڑ لی اپنی وہ ہمیں دیکھ لیں تو ڈر جائیں