سفر
ترجمہ: شعیب احمد
غروب آفتاب کی شفق رنگ روشنی میں
مشرق کی پرپیچ پگڈنڈی سے دو لڑکیاں میرے پاس آئیں
ان کے گالوں کا پیتل چمک دمک رہا تھا
اور ان کی آنکھوں میں پھیلی بے پایاں رات کی تہوں میں زہرہ کا ناچ
دیار غرب کے لیے ان کا تحفہ تھا
انہوں نے مجھ سے کہا:
’’ہمارے ساتھ مغرب کو چلو!‘‘
لیکن میں اسی طرح گاتا رہا
اور انہیں کوئی جواب نہ دیا
رات بھر گاتا رہا
میں نے پوری تاریک رات کو گیت کی گرمی سے بھر دیا
صبح کی ژالہ باری میں
جادۂ شمال سے دو لڑکیاں میرے پاس آئیں
ان کے ہونٹ آڑو کے گودے کی طرح جنگلی
اور ان کی رانیں
مرمریں مندروں کی طرح تھیں
انہوں نے کہا:
’’آؤ ہمارے ساتھ چلو!‘‘
میں نے وہ گانا بند کر دیا جو آفاق تا آفاق گونج رہا تھا
میں نے ان کی پر شور آنکھوں پر اپنی چپ کا بوجھ لاد دیا
اور آدھا دن سورج کے شعلوں کی بارش تلے میں چپ رہا
مغرب کی پر پیچ پگڈنڈی سے کچھ مرد میرے پاس آئے
ان کی آنکھوں میں تلاش کا سورج چمک رہا تھا
انہوں نے خاموشی کی گھمبیرتا میں مجھ پر نظریں گاڑ دیں
میں اٹھا اور چل پڑا اور دور دراز کے راستوں پر میرے گیت کے بے تاب آہنگ نے ہمارے قدم
شمار کیے
لیکن میری گنگ یاد
وہیں کی وہیں خاموش کھڑی رہی
ہمیں دیکھتی رہی
اور جب ہمارے سائے اور میرا گیت
غبار آلود رستے میں گم ہو گئے
تو رات کی بیزار تنہائی میں
وہ اپنی بے کسی اور بے بسی پر رو پڑی