احمد شاملو

احمد شاملو

عمومی عشق

    ترجمہ: سعادت سعید

     

    آنسو ایک راز ہے

    ہنسی ایک راز ہے

    عشق ایک راز ہے

     

    اس رات آنسو میرے عشق پر ہنس رہا تھا

     

    میں کوئی داستان نہیں کہ تو سنائے

    میں کوئی نغمہ نہیں کہ تو گائے

    میں کوئی آواز نہیں ہوں کہ تو سنے

    یا کوئی ایسی شے کہ جسے تو دیکھے

    یا کوئی ایسی شے کہ جسے تو جانے

     

    میں درد مشترک ہوں

    مجھے پکار

     

    درخت جنگل سے کچھ کہتا ہے

    سبزہ صحرا سے

    ستارہ کہکشاں سے

    اور میں تجھ سے کچھ کہتا ہوں

    مجھے اپنا نام بتا

    اپنا ہاتھ مجھے دے

    اپنی بات مجھے بتا

    اپنا دل مجھے دے

    میں نے تیری حقیقت پہچانی ہے

    میں نے تیرے ہونٹوں کے وسیلے سب ہونٹوں کے لیے بات کی ہے

    تیرے ہاتھ میرے ہاتھوں کو پہچانتے ہیں

     

    میں روشن تنہائی میں تیرے ساتھ رویا ہوں

    زندوں کی خاطر

    اور تاریک قبرستان میں تیرے ساتھ میں نے

    انتہائی سریلے نغمے گائے ہیں

    شاید اسی لیے امسال مردے

    زندوں سے کہیں بڑے عاشق ہو گئے ہیں

     

    اپنا ہاتھ مجھے دے

    تیرے ہاتھ مجھے پہچانتے ہیں

    اے دیر سے ملنے والے! میں تجھ سے کچھ کہہ رہا ہوں

    ابر کی مانند کہ جو طوفان سے

    سبزے کی مانند کہ جو صحرا سے

    بارش کی مانند کہ جو سمندر سے

    پرندے کی مانند کہ جو بہار سے

    درخت کی مانند کہ جو جنگل سے کچھ کہتا ہے

    اس لیے کہ میں نے

    تیری حقیقت پہچانی ہے

    اس لیے کہ میری آواز

    تیری آواز سے آشنا ہے