احمد شاملو

احمد شاملو

پانچواں گیت

    ترجمہ: شعیب احمد

     

    یہ ہوا کی خاکستری خوشبو ہے جو قرب صبح کی نوید سنا رہی ہے

    زمین کا پیٹ اگلے دن سے بھرا ہوا ہے

    یہ ہے زمزمہ سفید

    یہ ہے سورج جو طلوع ہو رہا ہے

    ستارے ایک ایک کرکے پگھلتے جا رہے ہیں

    اور رات

    چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں کٹتی جاتی ہے

    یہی وہ وقت ہے کہ تمہارے دانتوں کو

    طویل بوسے میں

    گرم دودھ کی طرح پی جاؤں

    ٭

    تمہارا ہاتھ، ہاتھ میں لینے کے لیے

    مجھے کون سے پہاڑ سے گزرنا ہو گا

    کہ گزروں!

    کون سے صحرا،

    کون سے سمندر کو عبور کرنا ہو گا

    کہ میں کروں

    جو دن اتنی خوبصورتی سے شروع ہو

    (جب میں نے اپنے غم نامے کے آخری تاریک لفظوں کو

    گزرتی ہوئی رات میں

    ہوائے شب کی بے خبری کے سپرد کر دیا ہے)

    وہ اس لیے نہیں کہ تمہاری حسرت میں گزر جائے

    اے میرے سارے موسموں پر محیط!

    تو ہی ہوا ہے، تو ہی شگوفہ اور تو ہی پھل!

    مجھ پر کسی سال کی طرح گزر

    کہ میں ہمیشگی کا آغاز کروں!