گوہ پوہ سینگ

گوہ پوہ سینگ

کچھ بھی نیا نہیں

    ترجمہ: ندا فاضلی

     

    کچھ بھی نیا نہیں ہے

    سب کچھ عادت بن چکا ہے

    میں اب

    کچھ بھی نیا نہ ہونے کے خوف سے

    خوف زدہ نہیں ہوں

    میرے ارد گرد

    بکھرتی ناآسودگیاں

    مجھے اب نہیں جھنجھوڑتیں

    یہ ویران

    سنسان خلائیں

    جو آپ ہی آ پ

    وقت بنتی رہتی ہیں

    کل

    آج

    ابھی

    کافی عرصے سے میں نے

    اس یکسانیت سے کھیلنا چھوڑ دیا ہے

    ہر کھلونے کو توڑ دیا ہے

    ہر دن

    میں پتھریلی خاموشیوں کا ورد سہتا ہوں

    بار بار دیکھتے ہوئے مناظر سے

    گزرتا رہتا ہوں

    ایسے جاگنے سے کیا فائدہ

    سورج کی ہنسی!

    کسی نئے وعدے کا اعلان

    اور پھر وہی

    بوڑھا ہوتا خالی آسمان

    درخت

    بے حس آسمان کے آگے رقص کرتے ہیں

    کچھ دیر لہراتے ہیں

    اور پھر

    بھوری سے ہری

    ہری سے بھوری ہوتی

    شام میں ضم ہو جاتے ہیں

     

    ہر شام اسی طرح

    صبح کا خواب لیے

    رات میں ڈھلتی ہے

    شام کا خواب لیے

    صبح میں بدلتی ہے

    کچھ بھی نیا نہیں ہے

    سب کچھ عادت بن چکا ہے