ایک محب وطن دوسرے وطن پرستوں سے
ترجمہ: ضمیر احمد
تم میری خاموشی کی تعظیم کرو
جو دغا فریب کا عادی ہو
وہ بولنے سے گھبراتا ہے
مجھ سے اکثر بھول ہوئی ہے
شہر میں بارش ہوئی تو اس کے شور کو میں نے
آوازوں کا ایک سمندر سمجھا ہے
ان آنکھوں نے کیا کیا دیکھا
مرد سمجھتا تھا میں جن کو
ان کو دیکھا عاجز ہوتے، سمٹے، سکڑے
جنگلی چوہوں کی مانند
سوراخوں کے اندر چھپتے
اور پھر ان سے حیراں ہوتے
اور چوہوں کی بے حد قسمیں
گھر کے چوہے، کھیت کے چوہے
گرجا گھر کے بھولے چوہے
اور وہ شاعر
جو حاصل نہیں کر پائیں گے نیولے کا کردار کبھی
اور وہ نیولے
جھومنے لگتے ہیں جو سن کر
سانپ کی لہراتی ہوئی بین
بدی کے فکر فرسودہ سے سحر زدہ
آخر اک دن خوف عقوبت سے گھبرا کر
دندان خون آلودہ
گردن میں گڑ جاتے ہیں
اور چبا کر پوچھتے ہیں
وہی پرانا ایک سوال
میرا مطلب، جناب عالی، وہی کہ شر کیا ہے ؟ انسان؟
شر جس سے تاریخ بھری ہے
میری بات سنو، دیکھو، یہ بڈھے سانپ کی باتیں ہیں
میرے لیے یہ سب ہے چشیدہ، سب ہے دیدہ
تم میری خاموشی کی تعظیم کرو
میں نے دیکھی ہیں تحریکیں
بدل گئیں جو غداری سے وحشت خیز فسادوں میں
مجھ سے بے شک بھول ہوئی
میں سمجھا یہ آوازیں تھیں
کہساروں میں بوندوں کی
ایسی لاکھ زبانوں کی
جو پتھریلی سڑکوں میں بھی گل بن کر کھل جاتی ہیں
میں سمجھا یہ نیزے تھے، یہ کرسٹل تھے گویائی کے
میری کڑواہٹ کو مانو
زہر مرا تسلیم کرو
اب میں کان نہیں دھرتا ان غلط سلط سی باتوں پر
جو جذبات سے عاری ہے
جو دغا فریب کا عادی ہے
وہ بھی گویا ہو ہی گیا