گرفت
ترجمہ: محمد ادریس بابر
شکنجہ
یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز
جس نے میرے دل کو
اپنے جبڑوں میں جکڑ رکھا ہے
ایک ذرا ڈھیلا پڑتا ہے
بس، یہی وقت ہے
سانس کھینچنے جتنی مہلت
(دوڑو، بھاگو، ہمت کرو!)
روشنی اور حرارت، تازگی اور زندگی ......
مگر افسوس وہ کس قدر سرعت سے پلٹ آتا ہے
اور دل، اس کی موجودگی کے احساس تلے
کچلا جاتا ہے!
میں محبت کرتا ہوں
ہاں، اپنی تمام تر کمزوری کے با وصف
میرا دل، درد سے آشنا ہے
اور اس کسک سے محبت کرتا ہے ...... بے پناہ محبت
ہے نا ایک طرح کا سودائی پن!
(یا پھر دوسری طرح کا)
لیکن یہ گرفت ، اتنی مضبوط
اتنی سخت، اتنی کرخت
شاید یہ کوئی پاگل ہے!
اور میں......
جیسے کسی چٹان کی کگر سے لپٹے ہوئے ......
یہ فیصلہ کرنا شاید کوئی مشکل نہیں
کہ گرتے ہوئے وجود اور جھکتی ہوئی چٹان میں سے کون
دوسرے کو سہارا دیے ہوئے ہے
(ذہن کا اس سے کوئی تعلق نہیں!)
نیچے
ایک خود سر، ہمہ گیر اور نامعلوم گہرائی
وقت سے پہلے کے نراج کی یادد لاتی ہے
پس، دل زار
حوصلہ مت ہار
ان پتھروں سے سبق سیکھ
سخت ہوتا رہ!
زندہ رہتا رہ!!