ڈیرک والکاٹ

ڈیرک والکاٹ

خواب تقدیر

    ترجمہ: محمد ادریس بابر

     

    جل دیوتا کے کرودھ کا شکار

    ایک بحری بیڑا

    موجوں کے خلاف کرنوں سے مدد مانگتا ہے

     

    جزیرے ......

    اجنبی جگہیں، اجنبی لوگ، اجنبی زمانے ......

    اکتائے ہوئے ملاح

    انہیں ایک دوسرے کے شرابور جسم

    اور اپنی اپنی خشک زمینوں کے خواب

    نظر آتے ہیں

     

    لوگ۔ ساز اور ملاح

    وہ دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں

    ان کے گھر بار، ان کے بیوی بچے

    ان کی راہ دیکھ رہے ہوں گے

     

    وہ سمجھتے ہیں

    خود کو اوڈیسیس جیسا

    یا پھر اوڈیسی...... شاید

    ٹھیک ہی سمجھتے ہیں

    یہ جانتے ہوئے

    کہ فرض اور محبت کی یہ نامختتم جنگ

    اتنی ہی پرانی ہے

    جتنے کہ وہ لوگ خود!

     

    لوگ۔ خواب

    جن کی تقدیرہیں

     

    ساحلوں پر بیٹھے ہوئے لوگ

    خواب دیکھتے ہیں

    اجنبی اور پراسرار جزیروں کے خواب

    پانیوں میں گھرے ہوئے لوگ

    خواب دیکھتے ہیں

    آشنا اور بے تکلف بستیوں کے خواب

     

    نئے لوگ، نئے خواب ......

    یہ پرانے قصے کہانیاں

    سن کر جی اب بھی بہل جاتا ہے

    مگر اتنا بھی نہیں!