ڈیرک والکاٹ

ڈیرک والکاٹ

جلاوطنی سے پہلے

    ترجمہ: محمد ادریس بابر

     

    دروازے پر

    کسی انہونی کا

    کسی سائے کے نمودار ہونے کا انتظار کرتے ہوئے

    میرے تخیل میں

    خزاں زدہ درخت اگتے چلے آرہے ہیں

    اور مینڈل سٹام کی مرگ کا خیال

     

    چاند

    لگتا ہے کہ مجھے ایک ٹک گھور رہا ہے

    سرچ لائٹ

    بالکل کسی سرچ لائٹ کی طرح

     

    ہتھیلی پر پڑا ہوا

    روشنائی کا دھبہ

    جیسے انگوٹھے پر اپنا دباؤ بڑھاتا چلا جاتا ہے

     

    ماحول میں یہ کیا شے بس کے رہ گئی ہے

    فضا کا وہ نمکین سا ذائقہ؟

    اور شام

    جس سے چونے

    بجھتے ہوئے چونے کی باس آتی تھی؟

    ایک سپاہی کندھے جھٹکتا ہے

    اور بس!

    پھر وہ بلی

    جسے میں اکثر

    اپنی گود میں بیٹھا ہوا تصور کرتا ہوں

    اچانک نکل بھاگتی ہے

    بچوں کے آنسوؤں سے دمکتی ہوئی آنکھیں

    دور ہوتے ہوئے افق کی طرح نظر آتی ہیں

     

    اور

    میری نظمیں ...... ساری کی ساری

    حتیٰ کہ یہ نظم بھی

    کہیں چھپ جانا چاہتی ہیں

    بے جڑ ہو جانے کے ڈر سے

    میری طرح

    کمزور اور بزدل!