آخر آخر
ترجمہ: محمد ادریس بابر
سب نہیں
مگر کوئی کوئی چیز
اچانک
ایک دھماکے کے ساتھ، یکلخت
بھک سے نہیں اڑ جایا کرتی
بلکہ یہ رفتہ رفتہ مٹتی ہے
آہستہ آہستہ مرتے ہوئے
ہونی سے انہونی تک کی مسافت
ایک سست رو مستقل مزاجی
کے ساتھ طے کرتے ہوئے
جیسے پانیوں کے جھاگ تھک ہار کر
ساحل کی ریت پر سو جاتے ہیں
اور جیسے دھوپ کی چادر، ڈھلتے ہوئے دن کے ساتھ ساتھ
بدن پر سے سمٹتی جاتی ہے
محبت معدوم ہونے کے لیے
کسی زلزلے کی محتاج نہیں ہوتی
یہ بغیر کسی حتمی اعلان کے
بغیر کسی پیش گوئی کے
ختم ہو جاتی ہے، پھولوں کے مرجھانے کی سی آواز
کے ساتھ ......
یوں ...... جیسے کبھی تھی ہی نہیں
جسم
کتنی خاموشی، کس درجہ سکون
وقت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں
اور
کوئی ماتمی دھن نہیں بجائی جاتی
ہر شخص، ہر جگہ، ہر شے
ہمیں کھاتی رہتی ہے
اور آخر کار
ہم خود کو دیکھتے ہیں
اداسی کے ایک دائرے کے بیچ
ایک خاموش اور پر ملال بیتھوون!