اس نے ناموری کیسے حاصل کی
کچھ لوگ ناموری کی ایسی زبردست اور پیدائشی خواہش لے کر پیدا ہوتے ہیں کہ جوں ہی وہ کچھ سوچنے ، سمجھنے اور کرنے کے قابل ہوئے دوسروں کی نظروں میں اونچا اٹھنے اور ان سے عزت پانے کے متمنی نظر آنے لگتے ہیں۔
موشیے کیلارڈ کی بچپن ہی سے یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے آپ کو عمدہ سے عمدہ اور قیمتی سے قیمتی پوشاک پہنے دیکھے۔ جب وہ بہت ہی چھوٹا تھا تبھی طرح طرح کے نقلی تمغوں سے اپنی چھاتی ڈھک کر وہی فخر محسوس کرتا تھا جو کچھ لڑکے بچپن ہی میں سپاہیانہ ٹوپی لگا کر کرتے ہیں۔ اپنی ماں کے ساتھ جب وہ بازار جاتا تب اس کی آنکھوں سے خودداری کا اظہار ہوتا تھا۔ اپنی چھوٹی سی چھاتی پھلا کر وہ اس طرح چلتا تھا کہ اس کے تمغے اور لال فیتے ، نمائش کی چیزیں بن جائیں اور لوگ کسی طرح متاثر ہوں۔
بہ حیثیت ایک طالب علم وہ ہمیشہ ناکامیاب رہا۔ بی اے کے امتحان میں جب وہ کسی طرح کامیاب نہ ہو سکا تو اس نے اپنی تعلیم وہیں پر ختم کر دی۔ جب اسے کچھ بھی نہ سوجھا کہ آئندہ کے لیے کیا کرنا چاہیے تب ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اس سے بیاہ کر لیا۔ اسے کچھ کرنے کرانے کی فکر نہ تھی کیونکہ ترکۂ پدری میں بہت کچھ اس کے ہاتھ آیا تھا۔
اوسط درجہ کے دوسرے لوگوں کی طرح یہ لوگ بھی پیرس میں اس طرح مگن رہ کر اپنی زندگی بسر کررہے تھے کہ انہیں نہ تو بیرونی دنیا کا کچھ پتہ تھا اور نہ انہیں اس کی پروا ہی تھی۔ چند سرکاری افسروں کی دوستی پر انہیں بڑا ناز تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان کے دوست افسروں میں سے بعض کسی نہ کسی دن ملکی وزارت کے رکن بھی بن سکتے ہیں۔ صوبجاتی حاکموں میں سے بھی کچھ سے ان کی دوستی تھی لیکن اس کے باوجود موشیے کیلارڈ کو ایک خیال پریشان کیے رہتا تھا۔ اس کو ہمیشہ اس بات کا کھٹکا رہتا تھا کہ اپنے کوٹ پر ریشمی فیتہ لگانے کا (جو شاہی نشان تھا)، اس کو حق نہیں تھا۔ شام کو ہوا خوری کے لیے جاتے ہوئے ٹھنڈی سڑک پر جب کبھی ایسے لوگوں سے اس کا سامنا ہو جاتا جنہیں حکومت کی طرف سے اس طرح کے اعزاز حاصل تھے تو وہ ان کی طرف گھور کر دیکھتا اور جل بھن کر رہ جاتا تھا۔ دوپہر کے وقت کبھی کبھی جب اسے کوئی کام نہ رہتا تھا تو وہ ایسے لوگوں کو شمار کرنے لگتا تھا۔ کبھی اسے خبط سوار ہو جاتا اور وہ اپنے آپ ہی کہنے لگتا ’’دیکھنا چاہیے کہ مڈلین اور را ڈراٹ کے درمیان مجھے ایسے اعزاز والے کتنے لوگ ملتے ہیں۔‘‘ اور اپنی اسی دھن میں وہ دھیرے دھیرے ان سڑکوں پر چلنا شروع کر دیتا تھا اور ہر ایک کے کوٹ کو غور سے دیکھتا جاتا تھا۔ جب وہ ان سڑکوں کے دوسرے کنارے پر پہنچ جاتا تو اپنی گنتی کی تعداد کو زور سے کہتا ۔ آٹھ افسر اور سترہ نائٹ! اوہ کتنے زیادہ!! اتنا دل کھول کر خطابوں کی بارش کرنے کو بے وقوفی ہی کہیں گے۔ مجھے تعجب ہے واپسی کے وقت اسی طرح کے نہ جانیں کتنے لوگ اور ملیں گے!‘‘
اور وہ بے چارہ اسی طرح دھیرے دھیرے اور گرفتہ دل ہو کر واپس لوٹتا۔
اسے وہ جگہیں اچھی طرح معلوم تھیں جہاں زیادہ تر ایسے معزز لوگ رہتے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ پیلس ، رائل میں ایسے لوگ کافی تعداد میں آباد ہیں۔ راولا پیمس میں وہ ایونیو وال اپیرا سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ اور ٹھنڈی سڑک کے داہنے بازو پر وہ بائیں بازو سے زیادہ چلتے ہیں۔
ان لوگوں کو جو جو تھیٹر اور کافی گھر پسند تھے۔ کیلارڈ کے پاس ان کا بھی حساب کتاب تھا ۔ جب وہ کچھ سن لوگوں کو بیچ سڑک کے چبوترے پر کہیں کھڑے ہو کر آنے جانے والے لوگوں کا جائزہ لیتے اور ان کی نگرانی کرتے دیکھتا تو اپنے آپ کہنے لگتا ’’بے شک یہ لوگ حکوم کی طرف سے اعزاز پانے والے افسر ہیں‘‘ اس کے بعد اپنی ٹوپی اتار کر وہ ان کی عز ت افزائی کرتا تھا۔
اس کی جزورس نگاہوں نے اس بات کا بھی پتہ لگا لیا تھا کہ جو لوگ محض نائٹ ہیں ان میں اور اس طرح کا اعزاز پانے والوں میں کیا فرق ہے۔ اس نے معلوم کر لیا تھا کہ عوام کے دلوں پر افسروں کی دھاک جمی ہوئی ہے اور لوگ انھیں زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
بعض اوقات تو وہ غریب ہر ایک اعزاز پانے والے آدمی دیکھ کر چڑھ جاتا تھا۔ جس طرح مالداروں کو دیکھ کر شوشلسٹ بگڑ اٹھتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی خیالات موشیے کیلارڈ کے بھی ہو جاتے تھے۔ جب وہ بہت سے اعزاز پائے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر بھنایا ہوا گھر کی طرف لوٹتا۔ تب اس کی ٹھیک وہ حالت رہتی تھی جو ایک مجبور اور بے کس بھوکے غریب کی طرح طرح کی مٹھائیوں سے سجی ہوئی کسی دکان کے پاس سے ہاتھ ملتے ہوئے گزرنے پر رہتی ہے۔ وہ گھر آنے پر تنک کر اپنی بیوی سے پوچھتا ’’آہ اس اندھی سرکار سے کب نجات ملے گی؟‘‘
اور اس کی بیوی حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر اس کے چہرے کی طرف دیکھتی ہوئی پوچھتی ’’اور آج تمھیں ہو کیا گیا ہے؟‘‘
’’ہمارے آس پاس روزانہ چلنے والے انصاف کے کھلونوں نے مجھے پریشان کر رکھا ہے۔‘‘ وہ جواب دیتا۔
دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ پھر شہر کا چکر لگانے نکلتا اور شاہی اعزاز اور تمغے فروخت کرنے والی دکانوں کو دیکھنے میں وقت برباد کرتا۔ طرح طرح کے فیتوں اور اعزازی گاؤن کو دیکھ کر اسے ایسا معلوم ہوتا کہ اگر وہ بھی ان سب کو پہن سکتا تو کسی شاہی جلوس کے موقع پر وہ کیسی شان شوکت کے ساتھ سب کے آگے آگے چلتا۔ اس وقت اس کا ٹوپ اس کی بغل میں دبا ہوتا۔ طرح طرح کے اعزازی تمغوں سے اس کا چوڑا سینہ ڈھکا ہوا ہوتا۔ وہ بھی آسمان میں چمکنے والے بڑے روشن ستارہ کی طرح اس مجمع میں اپنا ثانی نہ رکھتا۔ اس کے لباس اور شاہی تمغوں کو دیکھ کر لوگ کانوں ہی کان اس کے بارے میں معلومات حاصل کر لیتے اور اس کی تعریف کرتے ہوئے اپنے دل میں اسے جگہ دیتے۔ لیکن افسوس اسے کسی طرح گاؤن پہننے یا فیتہ لگانے کا حق نہ تھا۔
وہ اپنے آپ ہی کہہ اٹھتا ...... کیا پبلک کی خدمت کیے بغیر سچ مچ کوئی اعزاز حاصل نہیں کر سکتا؟ فرض کر لو کہ میں دارالامرا کا رکن بننا چاہتا ہوں! تب؟‘‘
لیکن اس غریب کو اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تھا۔ بالآخر مجبور ہو کر وہ اپنی بیوی کو سارا قصہ کہہ سناتا تھا۔
’’دارالامرا کی رکنیت! تم کس بوتہ پر اس کی امید کرتے ہو؟‘‘ وہ چونک کر پوچھتی وہ جھنجھلا اٹھتا ’’میں جانتا ہوں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں! تمہاری صلاح میں اس لیے لے رہا ہوں کہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے کون سا ذریعہ اختیار کیا جائے۔ لیکن کبھی کبھی تو تم ایک دم سے بے وقوف عورتوں کی طرح بات کرنے لگتی ہو۔‘‘
’’تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو۔ مجھے اس بارے میں ذرا بھی توقف نہیں۔‘‘ مسکرا کر وہ جواب دیتی۔
اسے ایک ترکیب سوجھی۔ وہ کہنے لگا ’’اچھا تم دارالامراکے نائب وزیر موشیے روسیلین سے اس بارے میں تذکرہ کرو تو کیسا ہے ممکن ہے وہ کوئی راستہ بتاسکیں۔ تم اتنا تو جانتی ہی ہو کہ میں بذات خود اس بارے میں ان سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کچھ کہنا ناممکن بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی خلاف مصلحت بھی۔ لیکن اگر تم تذکرہ کرو گی تو وہ ایک طرح سے حق بجانب بھی سمجھا جائے گا۔
اس کے بعد مسز کیلارڈ نے تذکرہ کیا اور موشیے روسیلین نے اس بات کو وزارت کے سامنے پیش کرنے کا وعدہ کیا۔
اس کے بعد موشیے کیلارڈ انہیں اس وقت تک پریشان کرتا رہا جب تک کہ نائب وزیر روسیلین نے انہیں باقاعدہ طور پر ایک عرضی پیش کرنے کو اور اس کے ذریعہ مطلوبہ شاہی اعزاز کے لیے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں دلیل پیش کرنے کو نہ کہا۔
’’میں کس طرح اعزاز حاصل کرنے کا دعویٰ کر سکتا ہوں؟ میں ایک گریجویٹ بھی تو نہیں ہوں‘‘۔ اس نے کہا۔ تاہم اس نے اس بارے میں کوشش کرنا طے کیا۔ بڑی دیر تک مغز لڑانے کے بعد اس نے ایک پمفلٹ چھپوانا طے کیا۔ بڑی دیر تک مغز لڑانے کے بعد اس نے ایک پمفلٹ چھپوانا طے کیا جس کا نام رکھا گیا۔ ’’نظام حکومت میں عوام کی رہنمائی ۔ لیکن علمی قابلیت کی کمی ہونے کی وجہ سے وہ اسے پایۂ تکمیل کو نہ پہنچا سکا۔
تب اس نے معمولی اور روزمرہ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں لکھنا طے کیا۔ اس نے جلد ہی اپنا کام شروع بھی کر دیا سب سے پہلے اس نے ایک رسالہ لکھا ’’مناظر کے ذریعہ بچوں کی تعلیم ۔ اس کی اس سکیم میں شہر پیرس کی غریب آبادی میں بچوں کے لیے ایسے سینما گھر بنانے پر زور دیا گیا تھا جہاں ان کو جادو کی لالٹین (میجک لیٹرن)کے ذریعہ بلا فیس تعلیم دی جاتی۔ تعلیم کے لیے ایک نصاب مقرر کیا گیا۔ بنیادی خیال یہ تھا کہ بچہ ان مناظر کو دیکھے گا اور اس سے اس کے دماغ کی نشوونما ہو گی۔ اس طرح بچوں کو تاریخ، جغرافیہ ، علم نباتات، حیوانات، علم البدن وغیرہ مضامین کی تعلیم آسانی سے دی جا سکے گی۔
اس نے اپنے ان خیالات کو چھپوا کر ایک چھوٹا سا رسالہ بنوا لیا اور اس کی کاپیاں عوام میں تقسیم کر دیں۔ ہر ایک وزیر کو اس کی دس دس کاپیاں، وزیراعظم کو پچاس کاپیاں اور ہر ایک اخبار کے ایڈیٹر کے پاس پانچ پانچ کاپیاں بھیجی گئیں۔
اس کے بعد اس نے چلتے پھرتے کتب خانوں کے بارے میں لکھنا شروع کیا۔ اس نے سکیم پیش کی کہ کتابوں کو گاڑیوں پر لاد کر سرکاری نوکر گلی گلی چکر لگائیں۔ ہر ایک شہری کو ایک مہینہ میں دس کتابیں لینے کا حق حاصل ہو گا۔ اس کے بدلے میں اسے صرف آدھ پنس ماہوار چندہ دینا پڑے گا۔
اس کے ان خیالات کو پڑھ کر وہ لوگ بھی اس سکیم سے دلچسپی لینے لگیں گے جو آرام کی نیند چھوڑ کر لائبریری تک جانے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے، جب لوگوں کو گھر بیٹھے عمدہ سے عمدہ کتابیں پڑھنے کو ملیں گی تو ضرور ہی ایسے کتب خانے بہت ہی مفید ثابت ہوں گے۔ کچھ اسی طرح کے خیالات سے متاثر ہو کر اس کی یہ سکیم تیار کی گئی تھی۔
کہنا نہ ہو گا کہ اس کی یہ کوشش اراکین سلطنت کو اپنی طرف بالکل متوجہ نہ کر سکیں، وہ بار بار اسی طرح کی سکیمیں پیش کرتا اور اسے صاف جواب مل جاتا۔ لیکن پھر بھی اسے اپنی کامیابی میں کوئی شبہ نہ تھا۔
تب اس نے خود جا کر اپنا معاملہ پیش کرنے کا تہیہ کیا۔ وزیرتعلیم سے اس نے ملنے کے لیے وقت مانگا اور اسے وقت دیا بھی گیا۔ لیکن وزیر تعلیم کے بدلے اسے ان کے نائب، ایک نوجوان اہل کار سے ہی ملنا پڑا۔ وہ اہلکار ایک بہت ہی سنجیدہ قسم کا انسان تھا اور ان کا عہدہ بھی بڑی ذمہ داری کا تھا۔ موشیے کیلارڈ سے اس نے کہا ’’آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ قابل اطمینان ہے ۔اور آپ اپنا کام جاری رکھیے۔ چنانچہ موشیے کیلارڈ اپنے کام میں پھر منہمک نظر آنے لگا۔
نائب وزیر موشیے روسیلین بھی اب اس کے کاموں سے بڑی دلچسپی لینے لگے۔ کبھی کبھی وہ اس کو مفید مشورے بھی دیتے تھے۔ روسیلین ایک معزز سرکاری عہدہ دار تھے۔ اگرچہ یہ بات کسی کو معلوم نہ تھی کہ انہوں نے کون سی ایسی اہم خدمات انجام دی تھیں جن کی بدولت انہیں ایسا ذمہ داری کا عہدہ دیا گیا تھا۔
انہوں نے کیلارڈ کو حصول مقصد کے نئے طریقے بھی بتائے، ماہرین کی کئی ایسی سوسائٹیوں سے اس کا تعارف کرایا جنہوں نے سائنس کی حیرت انگیز ایجادات کو روشنی میں لا کر شہرت اور عزت حاصل کرنا ہی اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا تھا۔ اتنا ہی نہیں اپنی آڑ میں وہ اسے ایوان تک لے گئے۔
ایک دن جب ناشتہ کرنے کے لیے موشیے روسیلین اپنے دوست کیلارڈ کے یہاں آئے (گذشتہ کئی مہینوں سے وہ مسلسل وہیں کھانا کھا رہے تھے) تو اس سے ہاتھ ملاتے ہی آہستہ سے کان میں کہا: ’’میں نے تمہاری بڑی سفارش کی ہے، تاریخی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے ایک بڑی ذمہ داری کا کام تمہارے سپرد کرنے کے بارے میں سوچا ہے۔ ملک فرانس کے مختلف کتب خانوں میں کچھ ریسرچ کرنا ہے۔‘‘
اس بات کو سن کر کیلارڈ اتنا زیادہ خوش ہوا کہ کھانا پینا بھی بھول گیا۔ ایک ہفتہ بعد وہ اپنے کام پر روانہ ہو گیا۔ گاؤں گاؤں جا کر وہ لائبریریوں کی فہرست کتب کو دیکھتا۔ بڑی بڑی اور ضخیم کتابوں سے بھری ہوئی الماریوں کو وہ بڑے غور سے دیکھتا اور مختلف علوم و فنون کی کس لائبریری میں کتنی کتابیں ہیں اس کے متعلق اعداد و شمار فراہم کرتا۔ لائبریرین اس کی مداخلت سے پریشان سے ہو گئے تھے۔
جب وہ رائین کے کتب خانہ میں کام کر رہا تھا تو ایک دن کی بات ہے کہ اس کے جی میں آیا کہ وہ اپنی بیوی سے فوراً ملے ۔ ایک ہفتہ سے وہ باہر تھا۔ اس نے رات نو بجے کی گاڑی پکڑی جو بارہ بجے پیرس پہنچتی تھی۔ برآمدے کے تالوں کی کنجیاں اس کے پاس ہی تھیں اس لیے کسی طرح کی آواز کے بغیر وہ اندر کے کمروں تک پہنچ گیا۔ وہ چپ چاپ اپنی بیوی کے پاس پہنچ کر دفعتاًاسے چونکانا چاہتا تھا اس لیے مارے خوشی کے اس کا دل اچھل رہا تھا۔ لیکن وہ کمرے کو اندر سے مقفل کئے ہوئے تھی۔ اس لیے وہاں پہنچ کر اس کے سارے منصوبوں پر پانی پھر گیا۔ اسے پکارنا ہی پڑا۔ ’’جینی میں ہوں‘‘۔
یقیناً وہ بہت ڈر گئی ہو گی۔ کیونکہ کیلارڈ کو ایسا معلوم ہوا گویا وہ گھبرا کر بستر سے کودی اور آپ ہی آپ کچھ اس طرح بڑبڑائی گویا خواب دیکھ رہی ہو۔ تب وہ صدر کمرے کی طرف بھاگتی ہوئی معلوم ہوئی۔ وہ دروازہ کھلا اور بند ہو گیا اور پھر کسی کے ننگے پاؤں اسی کمرے کے دو تین چکر لگانے کی آہٹ ملی۔ اس کے بعد کہیں اس نے پوچھا۔
’’الگزینڈر کیا تم ہو؟‘‘
’’ہاں ہاں۔ میں ہی ہوں۔ جلدی کرو ۔ دروازہ کھولو۔‘‘ اس نے کہا۔
جوں ہی اس نے دروازہ کھولا ہو گا وہ سہمی ہوئی سی اس سے لپٹ گئی اور چلائی۔ اوہ کتنا خوف، کتنی حیرت اور کتنی خوشی!!!
وہ ایک ایک کرکے اپنے کپڑے اتارنے لگا۔ جب وہ اپنے سب کپڑے ٹھکانے سے ٹانگ چکا تو ایک کرسی پر اس نے اوورکوٹ پڑا دیکھا جسے وہ ہمیشہ ڈرائنگ روم کے بغل والے کمرے میں ٹانگا کرتا تھا۔
اس نے اسے اٹھا لیا۔
لیکن دوسرے ہی لمحہ وہ گم شدہ سا کھڑا رہ گیا۔ اس کوٹ میں سرکاری اعزاز کا لال فیتہ لگا دیکھ کر اس کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔
’’کیوں اس کوٹ میں ریشم کا کڑھا ہوا یہ گلابی پھول کیسے ؟‘‘
ایک ہی لمحہ کے اندر اس کی بیوی اچھل کر اس کے پاس پہنچ گئی اور کوٹ کو اس کے ہاتھ سے لینے کی کوشش کرتی ہوئی کہنے لگی، نہیں تم غلطی کر رہے ہو۔ اسے مجھ کو دے دو۔‘‘
لیکن پھر بھی اس نے کوٹ کی ایک آستین کو پکڑ لیا اور پوچھتا ہی رہا ۔ ’’ذرا بتاؤ تو، آخر یہ کوٹ ہے کس کا؟ اس پر سرکاری اعزاز کا فیتہ لگا ہوا ہے۔ اسی لیے شاید یہ میرا نہیں ہے؟‘‘
’’سنو سنو! اسے مجھے دے دو۔ میں نہ بتاؤں گی کہ یہ کس کا ہے۔ یہ ایک بھید کی بات ہے۔‘‘ وہ بے صبری کے ساتھ بولی۔
لیکن وہ غصہ سے لال پیلا ہو کر بولا’’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ اوورکوٹ یہاں آیا کیسے؟ یقیناً یہ میرا نہیں ہے۔‘‘
’’یہ تمہارا ہی ہے۔ سنو، میری قسم ذرا سنو تو، تمہیں اعزاز مل گیا ہے ۔‘‘
’’کیا کہتی ہو مجھے اعزاز مل گیا ہے!‘‘
وہ کھو گیا۔ اس قدر کہ وہ کوٹ بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا اور وہ وہیں ایک آرام کرسی پر پڑ گیا۔
’’ہاں یہ سچ ہے لیکن یہ ایک راز ہے۔‘‘ اس کی بیوی نے کہا۔
اس نے کوٹ کو لے جا کر ایک الماری میں بند کر دیا اور کانپتے ہوئے دل اور پژمردہ چہرے کے ساتھ واپس لوٹی۔
’’ہاں‘‘ اس نے کہنا شروع کیا۔ یہ نیا اوور کوٹ میں نے تمہارے لیے بنوایا ہے۔ لیکن میں نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ اس بارے میں تمہیں کچھ نہ بتاؤں گی۔ کیونکہ سرکاری طور پر اس کا اعلان چھ ہفتے یا ایک مہینے سے پیشتر نہ ہو سکے گا۔ جب تک کہ تم اپنا کام ختم کرکے پیرس واپس نہ آجاؤ۔ یہ سب موشیے روسیلین نے تمہارے لیے کیا ہے۔‘‘
’’روسیلین!‘‘ خوشی سے متوالا ہو کر وہ بولا۔ ’’روسیلین نے مجھے اعزاز دلایا۔ اوہ! اس نے !!!‘‘
اور اس نے پانی کا ایک گلاس چڑھا لیا۔
اوورکوٹ کی جیب سے سفید کاغذ کا ایک ٹکڑا فرش پر گر پڑا تھا۔کیلارڈ نے اسے اٹھا لیا۔ وہ موشیے روسیلین کا وزٹنگ کارڈ تھا۔ اس پر لکھا تھا ’’روسیلین ۔ نائب وزیر‘‘۔
اب تو تم سمجھ گئے ہو گے کہ روسیلین نے ہی تمہارے لیے یہ سب کیا ہے۔‘‘ اس کی بیوی نے کہا۔
وہ خوشی کے مارے اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔
ایک ہفتہ کے بعد سرکاری گزٹ میں یہ اعلان شائع ہوا کہ موشیے کیلارڈ کو ان کی غیر معمولی خدمات اور تحقیقات کے لیے دارالامرا کا ممبر چنا جاتا ہے۔