موپساں

موپساں

بوڑھا جوڈاز

    ترجمہ: چندر بھوشن سنگھ

    یوں تو اس سرزمین کا چپہ چپہ حیرت انگیز واقعات سے پر تھا۔ سارے ملک کی فضا سے مذہبیت کی بو آرہی تھی۔ تاہم اس میں حد درجہ کی ویرانی محسوس ہوتی تھی۔ ایک جگہ ننگی پہاڑیوں کے دامن میں ایک بڑی جھیل پر سکون حالت میں تھی۔ سیوار کے لا تعداد جزیرے ہوا کے جھونکوں سے اس کے سیاہی مائل اور ساکت پانی کے اوپر تیرتے رہتے تھے۔

    اس جھیل کے کنارے کوئی آبادی نہ تھی۔ صرف ایک چھوٹی سی جھونپڑی اس ہیبت ناک فضا کے درمیان کھڑی تھی جس میں بوڑھا جوزف رہتا تھا۔ مچھلیاں فروخت کرنے سے جو آمدنی ہوتی تھی اسی سے  اس بوڑھے کی گزر اوقات ہوتی تھی۔ جس قدر مچھلیاں وہ پکڑتا انہیں لے کر ہفتہ میں ایک دن وہ قرب و جوار کے گاؤں میں فروخت کر آتا تھا اور وہیں سے اپنی ضروریات کے مطابق چھوٹی موٹی چیزیں خرید لیا کرتا تھا۔

    ایک مرتبہ میں اس بوڑھے گوشہ نشین سے ملنے کے لیے وہاں گیا۔ اس نے مجھے اپنے ہمراہ مچھلی پکڑنے کے لیے چلنے کی دعوت دی اور میں نے اسے بخوشی قبول کر لیا۔

    اس کی کشتی بھدی اور پرانی تھی جس کو کہیں کہیں سے کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ بڑھاپے کی وجہ سے چچا جوزف کے چہرے پر بھی جھریاں پڑ رہی تھیں۔ کشتی کے ایک سرے پر بیٹھا ہوا بڈھا آہستہ آہستہ مگر ایک ہی رفتار سے چپو چلا کر کشتی کو کھے جا رہا تھا۔ اس کے چپو چلانے کا انداز ایسا تھا جو ساحل کی ویرانی سے پیدا ہونے والی بے کیف فضا میں امن و سکون کا پیغام لا کر ہمارے دل کے بوجھ کو ہلکا کر رہا تھا۔

    مجھے ایسا محسوس ہوا گویا پرانے زمانہ کا کوئی آدمی اس پرانی کشتی میں مجھے بٹھا کر صدیوں پیچھے کی دنیا کی سیر کرا رہا ہے۔

    وہ بوڑھا اپنے جال کو پھیلا کر پھینکتا اور مچھلیوں کو پکڑ پکڑ کر کشتی میں ڈالتا جاتا تھا۔

    مچھلیاں پکڑنے کا کام ختم کر لینے کے بعد وہ مجھے جھیل کے دوسرے کنارے کی طرف لے چلا۔ اس طرف مجھے دفعتاً ایک شکستہ جھونپڑا نظر آیا۔ اس کی دیوار پر سرخ رنگ کا ایک بڑا سا کراس بن رہا تھا جو سورج کی الوداعی کرنوں میں اس طرح چمک رہا تھا گویا کسی کے لہو سے رنگا گیا ہو۔

    وہ کیا ہے؟‘‘ اس کی طرف اشارہ کرکے میں نے دریافت کیا۔

    ’’وہی مقام ہے جہاں جو ڈراز مرا تھا‘‘ سہم کر اور اپنے اوپر کراس بناتے ہوئے اس نے کہا۔ کراس بنانے سے بوڑھے کا مقصد غالباً یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کا کراس اس کی محافظت کرے۔

    میں اس کا جواب سن کر ذرا بھی پریشان نہیں ہوا۔ میں نے پھر پوچھا۔ ’’جوڈاز؟ کون جوڈاز؟‘‘

    ’’ایک آوارہ یہودی۔‘‘ اس نے جواب دیا۔

    میں نے اس سے پورا قصہ سننے کی خواہش ظاہر کی۔

    وہ قصہ بہت ہی تازہ تھا اور اس کے ساتھ ہی سچا بھی تھا۔چنانچہ کسی کہانی کی بہ نسبت اس کے سننے میں بڑا مزہ آیا۔ سب سے زیادہ خوبی کی بات یہ تھی کہ بوڑھا جوزف جوڈاز سے بخوبی واقف تھا اس لیے اس قصہ میں گویا جان آگئی۔

    بوڑھے نے کہنا شروع کیا۔ اس جھونپڑے میں پہلے ایک ایسی عورت رہتی تھی جس کے خاوند نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ وہ بھیک مانگ کر اپنا کام چلاتی تھی۔

    اس عورت سے پہلے اس جھونپڑے میں کون آباد تھا ،اس کے بارے میں بوڑھے چچا کو کچھ معلوم نہ تھا۔ شام کے وقت کی بات ہے۔ ایک دن ایک معمر شخص نے جو تقریباً دو سو برس کے سن کا رہا ہو گا اور بمشکل تمام چل پھر سکتا تھا، اس جھونپڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے اس تنہائی میں بسر کرنے والی عورت سے بھیک مانگی۔

    ’’بیٹھو دادا‘‘ اس نے اس سے کہا۔ یہاں کی کل چیزوں پر دنیا کی ساری مخلوق کو برابری کے حقوق حاصل ہیں کیونکہ یہ سب ساری خدائی کی دین ہیں۔

    دروازے کے ٹھیک سامنے ایک پتھر پڑا ہوا تھا، وہ بوڑھا اسی پر بیٹھ گیا۔ تب سے وہ اسی کے ساتھ اسی جھونپڑے میں رہنے لگا۔ وہ اس کی خشک روٹیوں سے حصہ بٹاتا اور گھاس پھوس کے بستر پر دن گزارتا تھا۔ اس کے بعد اسے چھوڑ کر وہ کہیں نہیں گیا۔ غالباً اس کے سفر کا بھی اختتام آگیا تھا۔

    ’’دوشیزہ میری کی طرح رحم کرکے اس نے بوڑھے کے سفر زندگی کا اس طرح خاتمہ کر دیا۔‘‘ چچا جوزف کہتے گئے ...... یہ اسی عورت کی مہربانی تھی کہ ایک آوارہ یہودی کے لیے اس نے اپنا دروازہ کھول دیا اور اس کو پناہ دی۔ وہ آوارہ اور چاروں طرف گھومنے والا تھا۔ قرب و جوار کے لوگوں کو پہلے تو اس کی ان عادتوں کے بارے میں کوئی واقفیت نہ تھی۔ لیکن جب ان لوگوں نے اسے ہمیشہ ایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتے اور چکر کاٹتے ہوئے دیکھا تو انہیں یقین کامل ہو گیا کہ اسی طرح گھومنا اور پھکڑ پن اس کی عادت کا ایک جزو ہے۔

    ان دونوں کو یہودی سمجھنے کے لیے معقول وجہ بھی موجود تھی۔ چونکہ اس بڑھیا کو کبھی کسی نے گرجامیں جاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اس لیے آس پاس کے لوگ اسے یہودن سمجھتے تھے۔ چنانچہ قدرتی طور پر اس کے یہاں ٹھہرنے والے بوڑھے کو لوگ یہودی سمجھنے لگے۔

    دیہات کے چھوٹے چھوٹے بچے جب یہودن بڑھیا کو بھیک مانگنے کے لیے آتے دیکھتے تو جھنڈ کے جھنڈ اسی کے پیچھے اکٹھے ہو جاتے اور ’’یہودن آئی، یہودن آئی‘‘ کہہ کہہ کر خوب شور مچاتے۔

    جب بوڑھا بھی وہیں رہنے لگا و دونوں ایک ساتھ ہی قرب و جوار کے گاؤں میں بھیک مانگنے کے لیے جانے لگے۔ وہ ہر دروازے پر کھڑے رہتے اور چند رٹے رٹائے بے گڑگڑا کر سنانا شروع کر دیتے تھے۔ دن کے وقت انہیں ہر شخص گاؤں کے راستوں پر چلتا ہوا اور دوپہر کے وقت تیز دھوپ میں کسی سایہ دار درخت کے نیچے بھیک ملے ہوئے ٹکڑوں کو کھاتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔

    اس خطہ کے لوگ کچھ ہی دنوں میں اس یہودی کو ’’بوڑھا جوڈاز‘‘ کے نام سے یاد کرنے لگے۔

    ایک دن اپنی جھونپڑی کو واپس ہونے کے وقت وہ اپنے تھیلے میں سور کے دو زندہ بچوں کو لایا جو کسی کسان نے اس کو اس لیے دیے  تھے کہ اس نے اس کی کوئی بیماری اچھی کر دی تھی۔

    اس کے بعد اس نے بھیک مانگنا بند کر دیا اور وہ اپنا سارا وقت ان سوروں کی دیکھ بھال میں گزارنے لگا۔ وہ ان کو جھیل کے کنارے یا آس پاس کی سرسبز وادیوں میں چرانے کے لیے لے جاتا تھا اور اس طرح اپنا وقت گزارتا تھا۔ بڑھیا یہودن اب بھی بھیک مانگنے کے لیے نکل جاتی اور شام ہوتے ہوتے اپنے جھونپڑے پر واپس آجاتی تھی۔

    بوڑھا جوڈاز بھی کبھی گرجا نہیں جاتا تھا۔ کسی نے کبھی اسے مذہب کا ذکر بھی کرتے ہوئے نہ سنا تھا۔ اس کی ان باتوں کو لے کر ہر روز عوام میں طرح طرح کی باتیں ہوتیں۔ ایک دن اس کی دستگیر بڑھیا کو سخت بخار آیا اور ہوا میں اڑنے والے پتے کی طرح وہ تھر تھر کانپنے لگی۔ جوڈاز دوڑا دوڑا پاس کے گاؤں میں گیا اور اس کے لیے کچھ دوائیں لایا۔ اس نے جھونپڑی کا دروازہ اندر سے بند کر لیا اور چھ دن تک کسی کو دکھلائی نہ دیا۔

    ’یہودن ‘کا آخری وقت قریب ہے یہ سن کر گاؤں کا پادری آخری بار دھرم کا اپدیش دینے کے لیے دوڑا ہوا آیا۔ وہ یہودن ہی تھی یا کوئی اور یہ بھی وہ ٹھیک سے نہ جانتا تھا۔ وہ کوئی بھی رہی ہو، پھر بھی اس کو نجات دلانا اپنا فرض سمجھ کر وہ بھاگا ہوا اس کے پاس آیا تھا۔

    جوں ہی اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، بوڑھے جوڈاز نے کواڑ کھول دیے۔ اس کے بعد وہ راستہ روک کر دہلیز پر کھڑا ہو گیا۔ بوڑھے کا دم پھول رہا تھا اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔اس کی لمبی اور سفید داڑھی زوروں سے ہل رہی تھی۔ اور کسی غیر زبان میں وہ گالیاں بک رہا تھا۔

    پادری نے کچھ کہنا چاہا ۔ روپیہ، پیسہ اور ہر بات سے مدد دینے کا وعدہ بھی کیا لیکن بوڑھا جوڈاز سب کچھ سنی ان سنی کرکے دونوں ہاتھوں کو زور سے پھینک پھینک کر اسے اسی طرح کوستا ہی رہا۔

    بوڑھے کی ناقابل برداشت پھٹکار سن کر بے چارہ پادری الٹے پاؤں لوٹ آیا۔

    جوڈاز کی رفیقہ دوسرے دن اس جہان سے رخصت ہو گئی۔ جھونپڑی کے سامنے ہی اس نے اسے دفن کر دیا۔ وہ لوگ اتنے پست تھے کہ آس پاس کے لوگ ان سے کسی طرح کا سروکار نہیں رکھتے تھے۔

    لوگوں نے پھر دیکھا کہ جوڈاز نے سوروں کے چرانے کا اپنا کام پھر باقاعدہ طور پر شروع کر دیا۔ وہ پہلے کی طرح بھیک مانگنے بھی نکل جاتا لیکن اب اسے کوئی چیز بڑی مشکلوں کے بعد ملتی تھی۔ کیونکہ پادری کے ساتھ اس کے ناروا سلوک کا چرچا ہر گھر کے لوگوں کی زبان پر تھا۔

    آخر کار اس نے ان سب کاموں سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور کہیں غائب ہو گیا۔یہ واقعہ ایسٹر کے ہفتہ میں پیش آیا۔ کسی نے بھی اس کے اس طرح غائب ہو جانے کی طرف توجہ نہ کی۔ایسٹر کے اتوار کی بات ہے۔ کچھ لڑکے لڑکیاں جھیل کے کنارے کنارے کھیلتی کودتی ہوئیں اس جھونپڑی کی اور نکل پڑی تھیں۔ ان لوگوں کو جھونپڑی میں زور کا شور و غل سنائی پڑا۔ قفل لگا ہوا تھا لیکن لڑکے اسے توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔ دونوں سور جیل خانہ سے چھوٹے ہوئے قیدی کی طرح نکل بھاگے اور پھر کبھی نہ دکھائی پڑے۔

    بچوں کا گروہ اندر داخل ہو گیا۔ فرش پر انہوں نے کچھ چیتھڑے پڑے دیکھے۔ بوڑھے جوڈاز کا ٹوپ ایک طرف لٹک رہا تھا۔ کچھ ہڈیاں ادھر ادھر بکھررہی تھیں۔ خون کے دھبے سوکھ رہے تھے اور کھوپڑی کے گڈھوں میں گوشت لگا ہوا تھا۔

    اس کے سوروں نے اسے اپنی خوراک بنا لیا تھا۔

    یہ واقعہ ’’گڈ فرائی ڈے‘‘ کے دن دوپہر میں تین بجے کے قریب پیش آیا۔اپنے قصہ کو ختم کرتے ہوئے بوڑھے جوزف نے کہا۔

    ’’تمہیں یہ کیسے معلوم؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔

    ’’اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں‘‘ اس نے جواب دیا۔

    میں نے اس کو یہ سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ یہ بھی ممکن تھا کہ جھونپڑی میں مالک کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد بھوکے سوروں نے اسے کھا لیا ہو۔

    دیوار پر جو کراس نظر آرہا تھا، اس کے باے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اچانک ہی وہ ایک دن صبح اسی جگہ اس انوکھے رنگ سے بنایا ہوا نظر آیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس کا بنانے والا کون ہے۔

    تب سے ہر ایک کو یقین ہو گیا تھا کہ چکر لگانے والے یہودی نے اسی مقام پر موت کو ہم آغوش کیا ہے۔

    میں خود بھی اس قصہ کی سچائی پر تقریباً ایک گھنٹے تک یقین کرتا رہا۔