بدنصیب روٹی
ترجمہ: چندر بھوشن سنگھ
ڈیڈی ٹیلی کے تین لڑکیاں تھیں۔ سب سے بڑی کا نام تھا اَنّاجس کا گھر میں کوئی شمار نہ تھا۔دوسری کا نام روز تھا جو اٹھارہ برس کی تھی اور پندرہ برس کی عمر والی سب سے چھوٹی کا نام کلیرا تھا۔
بوڑھے ٹیلی کی رفیقۂ حیات کا انتقال ہو چکا تھا۔ وہ موشیے لبرومنٹ کی بٹن بنانے والی فیکٹری میں فورمین کا کام کرتا تھا۔ وہ بہت ہی ایماندار، کام کو سوچ سمجھ کر نے والا اور قاعدہ کی پابندی کرنے والا آدمی تھا۔ خلاصہ یہ کہ وہ ایک نمونہ کا مزدور تھا۔ ہواورے نامی محلہ میں وہ رہتا تھا۔
انّا کا گھر سے بھاگنا سن کر بوڑھا ٹیلی جامہ سے باہر ہو گیا۔کپڑوں کی ایک بڑی دکان پر منیم کا کام کرنے والے ایک آدمی پر اس کو شک ہوا اور بوڑھے نے اسے جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد جب بوڑھے کو پاس پڑوس کے لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ انا سرکاری نوکری میں ہے اور باقاعدہ طور سے پیسہ پیدا کرکے زندگی گزار رہی ہے اور اب اسے کوئی آوارہ نہیں کہہ سکتا، اتنا ہی نہیں بلکہ اب تو وہ تاجروں کی عدالت کے جج موشیے ڈیوبویس کی دوست بن گئی ہے، تب تو بوڑھے کا سارا غصہ کافور ہو گیا۔
اتنے ہی سے بوڑھے کو اطمینان نہ ہوا بلکہ اس کی انا کے بارے میں اور زیادہ جاننے کی خواہش زبردست ہو اٹھی۔ اس نے اس کے چند پرانے ساتھیوں سے جو اس کے یہاں ہو آئے تھے، اس کا حال چال معلوم کرنے کی ٹھانی۔ دوستوں نے جب انا کے سجے سجائے مکان، عیش و عشرت کے سامان، امیرانہ زندگی کا بڑے ٹھاٹ سے ذکر کیا تب تو بوڑھے ٹیلی کا چہرہ غرور اور خوشی کے جذبات سے متاثر ہو کر کھل اٹھا۔ آج جبکہ وہ تیس سال سے کماتے کماتے مر کھپ کر بھی پانچ یا چھ ہزار فرانک (فرانس کا ایک سکہ) ہی جمع کر سکا تو تقریباً اتنی ہی لاگت کا سامان آسائش نسبتاً اس سے بہت کم عرصہ میں جمع کرنے والی انا کی سوچ اور سمجھ میں اسے شک کی ذرا بھی گنجائش نہیں رہی۔
ایک دن علی الصباح گاؤں کے دوسرے کنارے پر رہنے والے اور پیسہ بنانے کا روزگار کرنے والے ’ٹوچارڈ‘ کا لڑکا ٹیلی کے پاس آیا اور دوسری لڑکی روز سے شادی کرنے کی پیشکش کی۔ بوڑھے ٹیلی کا دل خوشی سے اچھلنے لگا۔ چونکہ ٹوچارڈ خاندان بہت ہی معزز اور دولت مند تھا اس لیے بوڑھے کو یقین ہو گیا کہ اپنی لڑکیوں کو پاکر وہ بلاشبہ خوش قسمت ہے۔
شادی طے ہو گئی اور دونوں طرف سے طے ہوا کہ خوب دھوم دھام کے ساتھ بیاہ کیا جائے، سینٹ ایڈسی کے ایک مشہور ہوٹل میں انہوں نے دعوت دینا طے کیا، خواہ اس کام میں ان کا سارا اندوختہ ختم ہی کیوں نہ ہو جائے۔
ایک دن صبح کے وقت بوڑھا ٹیلی جوں ہی اپنی دونوں لڑکیوں کو لے کر ناشتہ کرنے بیٹھ رہا تھا، دفعتاً اس کے گھر کا دروازہ کھلا اور انا داخل ہوئی۔ وہ اچھی طرح سنگار کیے ہوئے تھی اور بہت ہی خوبصورت نظر آتی تھی۔
بوڑھا ٹیلی کچھ کہے نہ کہے اس کے پہلے ہی اس نے اپنے دونوں بازو بوڑھے کے گلے میں حمائل کر دیے۔ اس کے بعد آبدیدہ ہو کر اپنی بہن کو دونوں ہاتھوں سے کس کر چھاتی سے لگالیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے لیے بھی ناشتہ کی ایک طشتری منگوائی تاکہ وہ بھی اپنے کنبہ والوں کے ساتھ کھانے پینے کا لطف اٹھا سکے۔
بوڑھے ٹیلی کی آنکھوں میں خوشی کے مارے آنسو آگئے۔ بیچ بیچ میں اس نے کئی بار دہرایا ’’یہ سچ ہے پیاری، یہ سچ ہے۔‘‘
تب اس نے اپنا سارا قصہ بیان کیا اور سینٹ رایڈ سی جا کر روز کی شادی کرنے کے بارے میں اس نے سخت مخالفت کی۔ اس نے بوڑھے کو سمجھایا کہ شادی میرے گھر سے کی جائے اور اس کا سارا خرچ میں خود برداشت کروں گی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ساری تیاریاں میں نے کر لی ہیں اور اب کچھ بھی کرنا یا کہنا نہیں ہے۔
بوڑھا ٹیلی تو اس بات پر راضی ہو گیا لیکن بعد میں اس کو شک ہوا کہ خاندان ٹوچارڈ بھی اس بات سے متفق ہو گا یا نہیں۔ روز اس بات کو سن کر چکرائی اور پوچھنے لگی ’’ان لوگوں کو اس میں کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ آپ لوگ یہ کام میرے ذمہ چھوڑ دیں۔ میں اس بارے میں فلپ سے بات چیت کروں گی۔‘‘
اس نے اسی دن اس بارے میں اپنے چاہنے والے سے مشورہ کیا اور بڑی آسانی کے ساتھ منظوری حاصل کر لی۔ قدرتی طور پر مسٹر اور مسز ٹوچارڈ بھی بہت ہی خوش ہوئے۔ اس طرح ان لوگوں پر سے ایک بہت بڑی ذمہ داری ٹل گئی اور عمدہ دعوت ملنے کی امید بھی بندھ گئی۔ انہوں نے فلپ سے کہا: ’’تم پورا یقین کر لو کہ ہر چیز اعلیٰ درجہ کی ہو گی۔‘‘
انہیں کے پڑوس میں ایک جگہ کھانا پکانے والی ان کی ایک دوست مسز فلورنس کو بھی انہوں نے مدعو کرنے کے لیے کہا۔ انا نے ان کی ساری شرطیں منظور کر لیں۔
مہینہ کے آخری دوشنبہ کے دن شادی طے ہوئی۔
( ٢)
مذہبی اور قانونی مراسم کی ادائیگی کے بعد برات انا کے گھر پہنچی۔ خاندان ٹیلی کے مدعو مہمانوں میں بوڑھے ٹیلی کے ایک بھتیجے موشیے ساوٹینن بھی تھے۔ موشیے ساوٹینن ہمیشہ فلسفیانہ خیالات میں غرق رہنے والے سنجیدہ مزاج کے بزرگ تھے۔ مسز لیمانڈ اس نام کی ایک سن رسیدہ چاچی بھی مدعو کی گئی تھیں۔
ساری جماعت میں موشیے ساوٹینن اور انا ہی کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ اس لیے دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
جیوں ہی وہ لوگ انا کے دروازے پر پہنچے، وہ اپنے ساتھی کا ہاتھ چھوڑ کر بھاگی اور کہتی گی ’’میں تمھیں راستہ بتاؤں گی‘‘ اور اتنا کہتے کہتے جب تک براتی لوگ دھیرے دھیرے اس کی تقلید کرتے ہیں، وہ دوڑ کر سیڑھیاں چڑھ گی۔
اوپر پہنچ کر وہ ایک کونے میں کھڑی ہو کر آنے والوں کا استقبال کرتی جاتی تھی اور انھیں کمرے کا راستہ بتاتی جاتی تھی۔
برات کا ہر شخص جیوں ہی کمرے میں داخل ہوتا، چاروں طرف متحیر ہو کر دیکھنے لگتا تھا اور کمرے کی زینت نیز انا کا امیرانہ ٹھاٹ باٹ دیکھ کر چونک اٹھتا تھا۔
سجے سجائے ڈرائنگ روم ہی میں کھانے کی میزیں بھی لگائی گئی تھیں کیونکہ اتنے لوگوں کے بیٹھنے کے لیے کھانے کا کمرہ چھوٹا تھا۔ زائد کانٹے، چمچے اور چھریاں پاس ہی کے ایک ہوٹل سے مانگ لی گئی تھیں۔ کھڑکیوں میں سے آنے والی شعاعوں میں شراب کی بھری بھرائی بوتلیں چمچما رہی تھیں۔
عورتوں نے سب سے پہلے آرام کرنے والے کمرے میں جا کر اپنے اپنے شال اور ٹوپ اتار کر رکھے اور پھر ڈرائنگ روم میں واپس آگئیں۔ دولہے کے والد مسٹر ٹوچارڈ نے (جو کہ دروازے پر کھڑے تھے) نہ معلوم کتنی طرح سے چٹک مٹک کر کمر لچکا کر، ہاتھ ہلا کر اور آنکھیں مٹکا کر آنے والے لوگوں کا دل بہلایا۔ بوڑھا ٹیلی جس کا سینہ اس وقت مارے غرور کے پھول کر گز بھر کا ہو رہا تھا۔ والد ہونے کے غرور سے تنا ہوا تھا، ایک ہاتھ میں اپنا ٹوپ لیے کمرے میں جا کر اپنی لڑکی کی شان شوکت کو دیکھ کر پھولا جا رہا تھا اور ہر چیز کو بڑے غور سے دیکھ کر جانچ رہا تھا۔
انا ادھر ادھر دوڑ کر دعوت کی ضروری چیزوں کے لیے نوکروں کو حکم دے رہی تھی اور جلدی مچا رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ کھانے کے کمرہ کے دروازے پر نظر آئی اور زور سے چلائی۔ ’’لمحہ بھر کے لیے آپ لوگ ادھر آئیے۔‘‘
بارہوں مدعو اشخاص اس کمرے میں داخل ہوئے۔ ایک چھوٹی سی میز پر عمدہ شراب کے بارہ گلاس بھرے رکھے ہوئے تھے۔
روز اور اس کا شوہر دونوں ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے اور رہ رہ کر ایک دوسرے کا بوسہ بھی لیتے تھے۔ موشیے ساوٹینن ایک ٹک انا کو دیکھ رہے تھے۔ وہ سب لوگ بیٹھ گئے اور شادی کی دعوت شروع ہوئی۔ میز کی طرف سب رشتے دار بیٹھ رہے تھے اور دوسری طرف نوجوانوں کی ٹولی۔ دولہے کی ماں مسز ٹوچارڈداہنی طرف وسط میں بیٹھ کر رہنمائی کر رہی تھیں۔ ان کی بائیں طرف دولہا بیٹھا ہوا تھا۔
انا سب کی ضرورتوں کا بنظر غائر مطالعہ کرتی جاتی تھی۔ مہمان اپنے اعزاز میں سجائے گئے کمرے اور پارٹی میں ملنے والے طرح طرح کے کھانوں کو دیکھ کر پھولے نہ سماتے تھے۔ ان لوگوں نے خوب آسودہ ہو کر کھانا تو کھایا لیکن ہنسی مذاق کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے سب کچھ شاندار ہونے پر بھی انہیں ایک کمی نظر آتی تھی۔
ہنس مکھ مسز ٹوچارڈلے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کھانا شروع ہونے سے پیشتر ہی کہا تھا ’’فلپ اس موقع پر تم کوئی گیت ضرور گاؤ۔‘‘ ان کے محلہ کے لوگوں کا خیال تھا کہ فلپ کی آواز بہت سریلی ہے۔
دولہا مسکراتا ہوا اٹھا اور اپنی سالی کی طرف دیکھ کر حسب موقع و محل کوئی ایسا گیت سوچنے لگا جو دعوت کے کھانے کو اور بھی مزیدار بنا دے۔
انا کے چہرے پر اطمینان کی جھلک تھی ۔ لوگ گانا سننے کے لیے ہمہ تن گوش بن کر تیار تھے اگر ہنسنے کا موقع آجائے تو اس کے لیے بھی لوگ تیار تھے۔
گانے والے نے گانے کا نام بتایا ’’بدنصیب روٹی‘‘ اور اپنا داہنا ہاتھ اٹھا کر طرح طرح کے اشارے کرکے وہ گانے لگا۔ درحقیقت وہ بڑا لمبا گانا تھا جس میں آٹھ آٹھ لائنوں کے تین بند تھے۔ آخری دو لائنیں دوبار دہرا کر کہی گئی تھیں۔ جب تک اس نے پہلے دو بند گائے، سامعین پر اس کا خاصہ اثر ہو چکا تھا۔ ان دونوں بندوں میں بالترتیب بے ایمانی اور ایمانداری سے روٹی کمانے کے طور طریقوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ بوڑھی چاچی اور دلہن لگاتار آنسو بہا رہی تھیں۔ پہلے بند کے پورا ہونے پر کھانا بنانے والی ایک ٹک اپنے ہاتھ کے کاغذوں کو پاگلوں کی طرح دیکھتی رہ گئی جسے دیکھ کر دوسرے لوگ تالیاں بجانے گے۔ دوسرے بند کے ختم ہونے پر ، دیوار کے سہارے کھڑے ہونے والے دو نوکروں نے بھی جذبات کی فراوانی سے مجبور ہو کر گانے والے کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ دلہن اور چاچی دونوں ابھی تک پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ ڈیڈی ٹیلی نے اپنی ناک سے ایک عجیب و غریب آواز نکالنی شروع کر دی اور بوڑھے مسٹر ٹوچارڈ بھی کچھ بہکنے سے لگے۔ کھانا بنانے والی بھی اب چپکے چپکے رونے لگی ۔
موشیے ساوٹینن نے جذبات سے متاثر ہو کر کہا ’’درحقیقت اسی کو گانا کہتے ہیں۔عام طور پر ایسے موقعوں پر جو گندی اور بھدی باتیں سنی سنائی جاتی ہیں ان کی بہ نسب یہ گانا کتنا بلند پایہ اور موثر ہے۔‘‘
دیکھنے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انا بھی بے حد متاثر ہو چکی تھی۔ اس نے اپنا اور اپنی بہن کا ہاتھ چوم لیا اور پھر اس کے گانے والے شوہر کی طرف اشارہ کیا گویا وہ ایسا شوہر پانے پر اسے مبارکباد دے رہی ہے۔
اپنی کامیابی کے نشہ میں چور ہو کر فلپ گاتا چلا جا رہا تھا۔ آخری بند میں ’’نوجوان لڑکیوں کے ذریعہ بے ایمانی سے روٹی کمانے‘‘ کا ذکر تھا۔ اس دل خراش بند کو گاتے وقت بوڑھے ٹوچارڈ اور دونوں نوکروں کے علاوہ کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ انا کا چہرہ زرد پڑ رہا تھا اور اس نے نگاہیں جھکا لیں، دلہن بھونچکی سی سب لوگوں کا منہ دیکھ رہی تھی۔ یکایک ماحول کے اس طرح بدل جانے کی وجہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔
موشیے ساوٹینن نے حالات پر قابو پانے کے خیال سے سنجیدگی کے ساتھ کہا ۔’’یہ آخری بند بالکل غیر ضروری ہے‘‘۔ ڈیڈی ٹیلی اشتعال کی وجہ سے جن کے کان تک سرخ ہو رہے تھے چاروں طرف پار ہو جانے والی نگاہیں پھینک رہے تھے۔ تب انا نے امڈتے ہوئے آنسوؤں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے نوکروں سے شیمپین لانے کو کہا۔
پھر ایک بار مہمانوں کے چہرے خوشی کے مارے کھل اٹھے۔ لیکن بوڑھے ٹوچارڈ پر کچھ اور ہی سنک سوار تھی۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ کمرے میں کیا ہو رہا ہے۔ اپنی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے اس نے گانے کی آخری لائنوں کو مستی کے ساتھ گایا۔ ’’بچو، اس روٹی کو نہ کھانے کے لیے میں تم سب کو آگاہ کر رہا ہوں‘‘۔
سنہرے کاغذوں میں لپٹی ہوئی شیمپین کی بوتلوں کو لاتے ہوئے دیکھ کر سب لوگ یکایک وہی سطریں دہرانے لگے گویا انہیں بجلی چھو گئی ہو۔
’’بچو! اس روٹی کو نہ کھانے کے لیے میں تم سب کو آگاہ کیے دیتا ہوں‘‘۔