سعید الدین

سعید الدین

وہ جو ستارے بناتا تھا

    وہ جو ستارے بناتا تھا وہ بس ستارے بناتا ہے یا چُپ رہتا ہے کسی سے بات نہیں کرتا کوئی اس کی بات سمجھتا ہی نہیں اسے بس ستارے بنانا آتا ہے آنکھیں بنانا نہیں آتیں وہ آنکھیں جوان ستاروں کو دیکھ سکیں!