سعید الدین

سعید الدین

چیونٹیاں

    چیونٹیاں زمین پر کتنے کوس چلتی ہوں گی اور کتنی ہمارے پیروں تلے آکر مسل جاتی ہوں گی اس کا شمار نہیں لیکن جب یہ ہمارے بدن پر چلتی ہیں تو ہم انہیں گن سکتے ہیں ان کی مسافت کا اندازہ لگا سکتے ہیں تم اپنے بدن پر کاٹتی چیونٹی کو کیسے الگ کرتے ہو یہ چیونٹی بتا سکتی ہے یا اس کے ٹوٹے ہوئے اعضا تم چیونٹیوں کے گھروں کے بارے میں اس سے زیادہ نہیں جان سکتے کہ یہ دروازوں کی ریخوں یا دراڑوں میں رہتی ہیں یا رات بھر چلتی رہتی ہیں لیکن تم یہ نہیں جان سکتے یہ کہاں مل بیٹھتی ہیں