سعید الدین

سعید الدین

خود گرفتہ

    جب میں چل پڑا تھا اس وقت تو محض چلنے کا سوچ ہی رہا تھا میں دوڑ رہا تھا در حقیقت دوسروں کو دوڑتا دیکھ رہا تھا میں حالت جنگ میں تھا جب کہ محض اپنے دانت پیس رہا تھا میں جیت چکا تھا حالاں کہ صرف تالیاں پیٹ رہا تھا جب مجھے مسند پر بٹھایا گیا اس وقت مجھے مردہ گاڑی میں ڈالا جا چکا تھا!