امرتا پریتم

امرتا پریتم

نظم

    ترجمہ: سمن کاظمی

     

    برسوں کی اک آری ہے

    حادثوں کے تیکھے دندانے

    امبر کی اس چوکی کا

    پایہ زور سے ٹوٹا

    نیچے گرا شیشے کا سورج

    آنکھوں میں کرچیں بھر گئیں

    بینائی ہوئی مری زخمی آج

    اب بھی نظر آئے دنیا کو شاید

    بینائی مری کو کچھ بھی نظر نہ آئے

    (پنجابی)