انتون چیخوف

انتون چیخوف

مرض لاعلاج

    ’’آپ سے کہہ دیا کہ میری میز نہ صاف کیا کیجیے‘‘  نکولی نے کہا۔ ’’مجھے کوئی چیز اپنی جگہ پر نہیں ملتی، تار کیا ہوا؟ آپ نے اسے کہاں پھینک دیا۔ مہربانی کرکے اس کو تلاش کیجیے۔ کل ہی تو کازن کے پاس سے آیا تھا۔‘‘

    ایک دبلی پتلی زرد رنگ کی خادمہ نے میز پر رکھی ہوئی ٹوکری سے متعدد تار نکال کر خاموشی کے ساتھ ڈاکٹر کو دیے، لیکن یہ سب تار مریضوں کے پاس سے آئے ہوئے تھے، ان میں کازن کا کوئی تار نہ تھا۔ پھر ڈرائنگ روم اور اولگاسریوونا کے کمرے میں وہ تار کو تلاش کرتے رہے۔

    آدھی رات سے زائد گزر چکی تھی۔ نکولی جانتا تھا کہ اس کی بیوی جلد واپس نہ آئے گی۔ کم از کم پانچ بجے صبح سے پہلے تو وہ آنے سے رہی۔ وہ اس کا اعتبار نہ کرتا تھا۔ جب وہ دیر تک باہر رہتی اسے نیند نہ آتی۔ اسے غصہ آتا تھا۔ اپنی بیوی سے اس کے بستر سے، اس کے آئینے اور اس کی مٹھائی کے ڈبوں سے، اس کے گلدستوں اور پھولوں سے جو روزانہ اس کے دوستوں کی طرف سے تحفتاً اس کے پاس آتے رہے تھے اور جن سے ایک تکلف آمیز ناگوار خوشبو پھیلتی رہتی تھی اسے نفرت ہو گئی تھی۔ ایسی راتوں کو وہ بدمزہ، چڑچڑا اور بدمزاج ہو جاتا تھا۔ اس وقت اسے ضد سی ہو گئی کہ کسی طرح وہ تار مل جائے حالانکہ اس میں سوائے بڑے دن کی معمولی مبارکباد کے کوئی خاص بات نہ تھی۔

    اسے اپنی بیوی کے کمرے میں صندوقچے کے نیچے رکھا ہوا ایک تار ملا ....... اسے پڑھنے لگا۔ یہ اس کی بیوی کے نام تھا اور اس کی ساس کے گھر سے بھیجا گیا تھا۔ مانٹی کارلو سے آیا تھا۔ اس پر مائیکل کے دستخط تھے ....... ڈاکٹر تار کا ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکا، وہ کسی دوسری زبان میں تھا، شاید انگریزی میں۔

    ’’یہ میکایل کون ہے؟اور مانٹی کارلو....... ماں کے توسط سے کیوں بھیجا گیا ؟‘‘

    اپنی سات سال کی بیاہی زندگی میں وہ شبہات اور بدگمانیوں کا اس قدر عادی ہو چکا تھا کہ اسے اکثر خیال ہوتا تھا کہ گھر کی مشق کی بدولت وہ ایک کامیاب سراغ رساں ہو سکتا ہے۔ اپنے مطالعہ کے کمرے میں جا کر وہ سوچنے لگا۔ سوچتا رہے، اسے یاد آیا کہ ڈیڑھ سال پہلے وہ اپنی بیوی کے ہمراہ پیٹرس برگ میں تھا اور وہاں اپنے ایک کلاس فیلو انجینئر کے ساتھ اس نے کھانا کھایا تھا۔ اس انجینئر نے اس سے اور اس کی بیوی سے ایک بائیس تیئس سال کے نوجوان کا تعارف کرایا تھا جس کا نام رس تھا۔ دو مہینے بعد ڈاکٹر نے رس کی تصویر اپنی بیوی کے البم میں دیکھی تھی جس کے نیچے فرنچ میں ’’ایام ماضیہ کی یاد اور مستقبل کی اُمید میں‘‘ لکھا تھا۔ کچھ عرصہ بعد یہ نوجوان آدمی اسے اپنی ساس کے یہاں ملا۔ اسی زمانہ میں اس کی بیوی گھر سے غائب رہنے لگی تھی اور اکثر راتوں کو چار پانچ بجے صبح سے پہلے واپس نہ آتی تھی۔ وہ سیاحت کی غرض سے باہر جانے کے لیے اپنے شوہر سے پروانہ راہداری دلا دینے کی خواہش رکھتی تھی جس کے دلا دینے سے وہ متعدد بار انکار کر چکا تھا، غرض گھر میں مستقل بدگمانیاں اور بدمزگیاں رہنے لگی تھیں۔ جس کی شرم سے وہ نوکروں کو منہ دکھانے کی ہمت نہ کرتا تھا۔

    چھ مہینے ہوئے اس کے دوستوں نے اسے بتایا کہ اسے دق ہو گئی ہے اورمشورہ دیا کہ وہ سب کام چھوڑ کر تبدیلی آب و ہوا کی غرض سے کریمیا چلا جائے۔ اس کی بیوی کو خبر ہوئی تو اس نے اپنے کو بدل دیا۔ اس نے شوہر سے محبت جتانا شروع کی۔ وہ اسے یقین دلاتی رہی کہ کریمیا میں بالکل بے لطفی رہے گی۔ وہاں سردی زیادہ ہو گی اور بہتر ہو گا کہ وہ نائس جائے جہاں وہ اس کے ہمراہ چل کر اس کی تیمارداری کرے گی۔

    اب وہ سمجھا کہ اس کی بیوی نائس جانے کے لیے اس قدر کیوں مصر تھی۔ اس کا میکائیل مانٹی کارلو میں رہتا تھا۔

    اس نے انگریزی لغت اٹھائی اور الفاظ کا ترجمہ کرکے تار کے مطلب پر غور کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ یہ جملہ بنا لینے میں کامیاب ہوا۔ ’’میں اپنی عزیز اولگا کا جامِ صحت نوش کرتا ہوں اور اس کے چھوٹے نازک پیر کے ہزاروں بوسے لیتا ہوں اور اس کی آمد کا بے چینی سے منتظر ہوں‘‘ نکولی کی نظروں کے سامنے اپنی اس حالت کی تصویر پھر گئی جو اپنی بیوی کے ہمراہ پکڑے جانے میں اس کی ہوتی۔ اسے اتنا رنج ہوا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور مکان کے تما م کمروں میں وہ بے چین ہو کر ٹہلنے لگا۔ اس کا افتخار مجروح تھا، اس کی روح گھٹ رہی تھی۔ اپنی مٹھیاں بند کرکے مایوسانہ بڑبڑاتے ہوئے اس نے انہیں میز پر مارنا شروع کیا۔ اس نے سوچا کہ وہ دیہا ت کے پادری کا بیٹا ہو کر جسے اپنی اعلیٰ مذہبی تعلیم کے ساتھ انتہائی روشن خیالی کے درس دیے گئے تھے کس طرح ایک ناکارہ، بد ذات اور بے شرم عورت کے پنجوں میں گرفتار ہو گیا تھا،ایک بے بس و مجروح صید کی طرح اس کی خواہشا ت کا غلام بن کر رہ گیا تھا۔

    ’’چھوٹے نازک پیر!‘‘ تار کو مٹھی میں مسلتے ہوئے اس نے کہا۔ ’’چھوٹے نازک پیر!‘‘

    اس وقت کی یاد جبکہ اسے پہلے پہل اولگا سے محبت ہوئی اور اس نے شادی کے لیے اس کے پاس پیام بھیجا اور اس سات سال کی بیاہی زندگی میں جو اس نے اس کے ساتھ گزاری تھی، جو کچھ اسے یاد رہ گیا تھا، وہ صرف اس کے لانبے، ملائم خوشبودار بال تھے یا اس کے چھوٹے پیر ، جو واقعی بہت نازک تھے اور جن سے اس وقت بھی اسے کسی قدر وابستگی تھی ....... اس کے آگے؟ ....... اس کے آگے کچھ نہیں ....... یا پھر شبہات ، بدگمانیاں، کھوج، مکاری، غصے، دھمکیاں، اعتزار اسے یاد تھا کہ اس کے باپ کے گھر میں کبھی ایک دیہات کی چڑیا کمرے کے اندر آجاتی تھی اور باہر نکلنے کی کوشش میں وہ شیشہ دار کھڑکیوں سے ٹکرا ٹکرا کر کمرے کی تمام چیزوں میں انتشار اور گڑبڑ پیدا کر دیتی تھی۔ اسی طرح یہ عورت بھی اس کی زندگی کے کمرے میں ایک غیر خاندان سے اڑ کر چلی آئی تھی اور اس نے اس کے سکون و عافیت میں ابتری پیدا کر رکھی تھی۔ اس کی زندگی کے بہترین ایام گویا جہنم میں گزارے گئے تھے۔ اس کی حوصلہ اور مسرت سے بھری ہوئی امیدیں منہدم ہو گئی تھیں۔ اس کی تندرستی برباد تھی، اس کے کمرے بے ترتیب اور گڑبڑ پیدا کرنے والی فضا میں طوائفوں کے کمروں کا نمونہ تھے۔ اپنی دس ہزار کی سالانہ آمدنی میں سے وہ اپنی ماں کے لیے جو اپنی ضعیفی کے ایام گاؤں میں کاٹ رہی تھی، دس روبل بھی نہ بچا سکا تھا۔ اور پندرہ ہزار سے زائد اس کا قرضہ تھا۔ اسے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اگر اس کے گھر میں ڈاکوؤں کا ایک گروہ مستقل طور پر رہتا تو بھی اسے اتنا نقصان نہ پہنچتا، جس قدر بربادی اس نے اس عورت کے ہاتھوں اٹھائی تھی۔

    اسے کھانسی آنے لگی اور اس کی سانس پھولنے لگی۔ اس وقت تک اسے بستر پر چلا  جانا چاہیے تھا لیکن وہ نہ جا سکا، وہ کمروں میں چہل قدمی کرتا رہا، میز کے پاس بیٹھا رہا۔ ایک چھوٹی پنسل اٹھا کر بغیر الفاظ کو سمجھے ہوئے وہ یہ الفاظ لکھتا رہا:

    ’’چھوٹے نازک پیر!‘‘

    پانچ بجے تک وہ کمزور ہو گیا اور سارا الزام اپنے سر لینے لگا۔ اب اس نے سوچا کہ اگر اولگا کی شادی کسی دوسرے شخص سے ہوتی جس کا اس پر کافی اثر ہوتا تو .......کون کہہ سکتا ہے ؟ .......وہ ایک پاکباز، باحیا اور شریف عورت رہتی۔ اسے نفسیات پر کافی عبور نہ تھا۔ وہ عورت کے دل سے ناواقف تھا۔ علاوہ اس کے وہ خشک اور غیر دلچسپ تھا.......

    ’’میں عرصے تک زندہ نہ رہوں گا‘‘ اس نے خیال کیا۔ ’’میں مردہ ہوں، مجھے کسی زندہ شخص کی راہ میں حائل ہونے کا کوئی حق نہیں۔ حقوق پر بحث کرنا حماقت ہے۔میں اب ان جھگڑوں کو ختم کر دوں گا۔ اسے اس کے محبوب کے پاس جانے سے کیوں روکا جائے....... میں طلاق دے دوں گا، سارا الزام اپنے سر لے لوں گا۔‘‘

    اولگا سریوونا آئی اور مطالعہ کے کمرے میں جا کر جس حالت میں آئی تھی بعینہٖ اسی حالت میں اپنے سفید لبادے ، ہیٹ اور بوٹوں میں ملفوف وہ ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔

    ’’بدذات کہیں کا‘‘ اس نے پھولتی ہوئی سانسیں لے کر سسکتے ہوئے کہا۔ ’’بے ایمانی کی حد بھی ہے! نفرت ہو گئی‘‘ اس نے اپنے پیر فرش پر پٹخے۔ ’’میں اس سے کبھی تو بولوں گی نہیں ، نہ ملوں گی، کبھی نہیں!‘‘