انتون چیخوف

انتون چیخوف

ناداری

    بوڑھا سمیوں، عرف لال بجھکڑ اور ایک نوجوان تاتاری جس کا کوئی نام تک نہیں جانتا تھا، دریا کے کنارے الاؤ کے گرد بیٹھے تھے، باقی تین ملاح جھونپڑی کے اندر تھے۔ سمیوں کوئی ساٹھ سال کا کسے ہوئے بدن کا، پوپلا آدمی تھا، اس کے شانے چوڑے چکلے تھے اور چہرے سے ابھی صحت کے آثار ٹپکتے تھے۔ اس وقت وہ نشے کی ترنگ میں تھا۔ اس کی جیب میں شراب کی بوتل تھی اور دل میں یہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں میرے ساتھی اس میں سے حصہ نہ مانگ بیٹھیں۔ یہ نہ ہوتا تو وہ کبھی کا سو جاتا۔ تاتاری بیمار اور تھکا ماندہ، پھٹے پرانے چیتھڑے بدن سے لپیٹے، صوبہ سمبرسک کی مزے دار زندگی اور اپنی بیوی کے حسن و ذکاوت کی داستان بیان کر رہا تھا۔ اس کی زیادہ سے زیادہ عمر پچیس سال ہو گی۔ مگر الاؤ کی روشنی میں اس کے زرد و بیمار، اور مغموم چہرے کو دیکھ کر یہ خیال ہوتا تھا کہ ابھی لڑکا سا ہے۔

    لال بجھکڑ بولا: ’’بھئی ! یہ جگہ کچھ جنت تو ہے نہیں۔ تم خود ہی دیکھتے ہو کہ سوائے پانی اور دریا کے چٹیل کناروں اور  لیس دار مٹی کے کچھ بھی نہیں۔ جاڑاختم ہوچکنے کو آیا پھر بھی دریا میں برف بہہ کر آ رہی ہے۔ آج سویرے بھی تھی۔‘‘

    تاتاری نے کہا: ’’مصیبت ہے مصیبت۔‘‘ اور گھبرا کر چاروں طرف نظر ڈالی۔

    دس قدم کے فاصلے پر ٹھنڈا برف کا سیاہ دریا بہہ رہا تھا۔ جھلاتا تھا، کھوکھلے ریتلے ساحل سے ٹکراتا تھا اور کہیں دور سمندر کی طرف تیزی سے بہتا چلا جا رہا تھا، کنارے سے ملی ہوئی ایک بڑی ناؤ کی سیاہ پرچھائیں نظر آتی تھیں۔ بہت دور دریا کے اس پار، روشنیاں کبھی دھندلی ہو جاتی تھیں، کبھی جگمگانے لگتی تھیں۔ اور چھوٹے چھوٹے سانپوں کی طرح بل کھاتی تھیں۔ یہ پچھلے سال کی گھاس تھی جو جلائی جا رہی تھی، ان سنپولیوں کے پیچھے پھر اندھیرا تھا۔ ہوا مرطوب اور سرد تھی۔

    تاتاری نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔ اس کے وطن میں بھی اتنے ہی تارے تھے، چاروں طرف اسی قدر اندھیرا تھا۔ لیکن یہاں کسی بات کی کمی محسوس ہوتی تھی، صوبہ سمبرسک میں تارے یہاں سے بالکل مختلف تھے اور آسمان بھی دوسرا تھا۔

    تاتاری نے پھر کہا: ’’مصیبت ہے، مصیبت۔‘‘

    سمیوں ہنسا ’’رفتہ رفتہ طبیعت مانوس ہو جائے گی، ابھی کچے ہو ... منہ سے ابھی دودھ کی بو آتی ہے۔ اپنی نادانی سے سمجھتے ہو کہ مجھ سے زیادہ برا حال کسی کا نہیں۔کوئی دن جاتا ہے۔ اپنے دل میں کہو گے، خدا سب کو ایسی زندگی نصیب کرے۔ مجھے دیکھو ہفتہ بھر میں پانی اتر جائے گا۔ ڈونگے چلنے لگیں گے۔ تم سب سائے بیریا کا راستہ لو گے، میں یہاں پڑا اس کنارے سے اس کنارے، اس کنارے سے اس کنارے کشتی دھکیلتا رہ جاؤں گا۔ بائیس سال سے میرا دن رات یہی کام ہے۔ پانی کے تلے مچھلیاں، پانی کے اوپر میں،پھر بھی شکر ہے کہ مجھے کسی بات کی شکایت نہیں۔ خدا سب کو ایسی زندگی نصیب کرے!‘‘

    تاتاری نے آگ میں کچھ خشک ٹہنیاں جھونکیں اور شعلوں کے قریب سکڑ کر بیٹھ گیا اور بولا ’’میرے والد ہمیشہ بیمار رہتے ہیں۔ میری ماں اور بیوی وعدہ کر چکی ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد یہاں آجائیں گی۔‘‘

    لال بجھکڑ نے پوچھا ’’ماں اور بیوی کو لا کر کیا کرو گے؟ ارے میاں! اس حماقت میں نہ پڑو۔ شیطان ملعون تم کو بہکا رہا ہے۔ اس مردود کی ایک نہ سنو! اس کے دام میں ہرگز نہ آؤ۔ اگر وہ عورتوں کا ذکر چھیڑ کے ورغلائے، تو اسے جلانے کے لیے کہہ دو: مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ آزادی کے بہانے اکسائے تو اس کا مردوں کی طرح مقابلہ کرو۔ اور کہہ دو : مجھے نہیں چاہیے۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ نہ ماں، نہ باپ، نہ بیوی، نہ آزادی، نہ ڈاک، نہ کھیت کھلیان، خدا ان سب کا ستیاناس کرے! مجھے ان میں سے کچھ نہیں چاہیے۔‘‘

    لال بجھکڑ نے اپنی بوتل میں سے ایک گھونٹ لیا ۔ اور پھر بولنا شروع کیا۔’’میں معمولی کسان، مزدوری پیشہ لوگوں میں سے نہیں۔ ایک پادری کا لڑکا ہوں۔ جب آزاد تھا تو کرسک میں رہتا تھا۔ ایک زمانے میں میں بھی فراک کوٹ ڈانٹا کرتا تھا۔ مگر میں نے اپنا یہ حال بنا لیا ہے کہ زمین پر ننگا سو سکتا ہوں۔ اور ضرورت پڑے تو جڑی بوٹی پر گزارا کرنے کو تیار ہوں۔ خدا سب کو ایسی زندگی نصیب کرے! نہ منہ سے کچھ مانگتا ہوں۔ نہ دل میں کسی سے دبتا ہوں۔ اپنے سے زیادہ شاد اور آزاد کسی کو نہیں سمجھتا۔ جس دن سے روس سے یہاں بھیجا گیا ، میں نے دل کڑا کرکے ٹھان لی۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ شیطان نے مجھے بھی، بیوی، گھر، آزادی کا دام دےدے کر پھسلانا چاہا۔ میں نے اس سے صاف کہہ دیا: مجھے کچھ نہیں چاہیے اور اپنے خیال پر جما رہا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کتنے مزے میں ہوں۔ کسی بات کی مطلق شکایت نہیں ۔ بس یہ سمجھ لو کہ جو ذرا سا شیطان کے پھیر میں آیا۔ اور اس کا فیصلہ ہوا۔ پھر بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ چندیا تک دلدل میں دھنس جائے گا۔ اور نکالے نہیں نکلے گا۔

    تم دہقان لوگ ہی شیطان کی چالوں میں نہیں آئے۔ خاندانی پڑھے لکھے لوگ بھی دھوکا کھا جاتے ہیں۔ کوئی پندرہ سال کا ذکر ہے کہ ایک شخص روس سے جلاوطن ہو کر یہاں پہنچا۔ بھائیوں میں جائیداد کی تقسیم اور جعلی وصیت کا کچھ جھگڑا تھا۔ لوگ سمجھے کہ ہو نہ ہو یہ ضرور کوئی شہزادہ یا جاگیردار ہے، یہ بھی ممکن ہے، صرف معمولی سرکاری ملازم ہو۔ کسی کو کیا معلوم؟ خیر، تو وہ صاحب یہاں تشریف لائے۔ اور آتے ہی انہوں نے ایک مکان اور کچھ زمین خرید لی۔ فرمانے لگے ’’میں خود روزی کما کر کھاؤں گا۔ اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی پر گزارا کروں گا۔ میں اب رئیس نہیں رہا۔ معمولی جلاوطن ہوں‘‘ میں نے سن کر کہا: ’’ارادہ تو بہت نیک ہے!‘‘

    وہ اس وقت نوجوان تھا۔ مزاج میں دوڑ دھوپ کے ساتھ احتیاط کا مادہ بھی تھا۔ خود گھاس کاٹتا اور مچھلیاں پکڑتا، گھوڑے پر ساٹھ میل کی سواری اس کے لیے معمولی بات تھی۔ مگر آگے چل کر یہ نقشہ بدل گیا۔ پہلے ہی سال گھوڑے پر چڑھ کر ڈال لینے گائی رینو آنے جانے لگا۔ میری کشتی میں کھڑا ہو جاتا ۔ اور ٹھنڈا سانس کھینچ کر کہتا۔ کیوں سمیوں! گھر والوں نے کتنے عرصہ سے خرچ نہیں بھیجا! میں کہتا: ویسیلائی سرگے یوچ، روپے کی تمہیں ضرورت نہیں، روپیہ لے کر کیا کرو گے؟ اگلے زمانہ کو بھلا دو۔ جیسے کبھی تھا ہی نہیں، یا اگر تھا بھی تو محض ایک خواب تھا۔ نئے سرے سے زندگی شروع کرو۔ شیطان کی گھاتوں میں نہ آؤ! اس کا انجام برا ہو گا، اس کے جال میں پھنس جاؤ گے۔ ابھی تو صرف روپیہ چاہتے ہو، تھوڑے دنوں میں کچھ اور چاہو گے۔ پھر کچھ اور، پھر کچھ اور .......خوش رہنے کی ترکیب یہ ہے کہ کسی چیز کی خواہش نہ کرو .......اگر تقدیر نے ہم پر تم پر زیادتی کی، تو اس کے آگے ہاتھ پھیلانے اور سر جھکانے سے فائدہ؟ چاہیے یہ کہ اسے ٹھکراؤ، اس کا مذاق اڑاؤ، نہیں تو وہ تمہارا مذاق اڑائے گا، میں اسے یہ مشورہ دیتا رہا۔

    اس کے دو سال بعد مجھے اس دریا کے اسے پار ااتارنے کا اتفاق ہوا۔ خوشی کے مارے پھولا نہیں سماتا تھا۔ کہنے لگا، اپنی بیوی کو لینے گائی رینو جا رہا ہوں، آخر اس کا دل پسیج گیا۔ اور وہ یہاں آنے پر رضامند ہو گئی۔ کتنی نیک اور مہربان ہے! اس کی باچھیں کھل جاتی تھیں، دوسرے دن وہ بیوی سمیت واپس ہوا۔ وہ سر پر ٹوپی لگائے ایک نوجوان بانکی عورت تھی، گود میں ایک دودھ پیتی بچی تھی، اور منوں میں مختلف قسم کا مال اسباب، سرگریوچ صاحب اس کا طواف کر رہے تھے۔ کیا مجال ہے جو آنکھیں دم بھر کو بیوی کے چہرے سے اٹھ جائیں، اس کی تعریف میں ان کا منہ سوکھتا تھا۔ مجھ سے فرمانے لگے: ہاں! بھائی سمیوں، لوگ سائے بیریا میں بھی لطف سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، میں نے دل میں کہا، یہ چند دن کی بہار ہے، رت بدلتے دیر نہیں لگتی، اس دن سے ہر ہفتہ اس کا معمول بندھ گیا کہ ڈاک خانہ جا کر پوچھے کہ گھر سے روپیہ تو نہیں آیا۔

    ایک دن مجھ سے کہا، میری خاطر وہ اپنا حسن، اپنی جوانی سائے بیریا میں گنوا رہی ہے اور میرے ساتھ کڑیاں جھیل رہی ہے، لہٰذا مجھ پر واجب ہے کہ اس کے آرام و آسائش کا پورا پورا خیال رکھوں، بیگم صاحبہ کا جی بہلانے کے لیے اس  نے مقامی افسروں اور ایرا غیرا سب سے راہ و رسم پیدا کی، پھر لازم ہوا اس لشکر کی خاطر تواضع کا بندوبست ہو، ضروری سمجھا یا کہ ایک پیانو خریدا جائے۔ اور صوفہ پر ایک بالوں والا گدو کا کتا ہو۔ غارت ہو کم بخت! الغرض، ہر طرح کے ٹھاٹ ، بلکہ عیاشی ہونے لگی، اس پر بھی وہ نک چڑھی بیگم زیادہ عرصہ تک اس کے پاس نہ ٹکیں اور ٹکتیں بھی کیوں؟ کیچڑ اور پانی، کڑاکے کی سردی، نہ پھل نہ پھلواری، لوگوں کو دیکھو تو جاہل، شرابی، جنہیں نہ اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ، نہ بات کرنے کا ڈھنگ۔ اور وہ ٹھہریں ما شاء اللہ پیٹرس برگ یا ماسکو کی مزاج دار خاتون.......یہاں ان کے لیے مکھیاں مارنے کے علاوہ کیا دھرا تھا، اس پر طرہ یہ کہ خاوند کی حیثیت بھی پہلے سے گر گئی تھی۔ ایک بیچارے جلاوطن کی اوقات ہی کیا ہوتی ہے۔

    اس کے تین سال بعد کا ذکر ہے، مجھے خوب یاد ہے کہ لیلۃ القدر کی شام کو پرلے کنارے سے کسی نے زور سے پکارا، میں ناؤ ادھر لے کر پہنچا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ وہی بیگم صاحبہ کانوں تک اوڑھنی لپیٹے کھڑی ہیں، اور پہلو میں ایک نوجوان افسر ہے۔ ایک تکڑی ساتھ جتی کھڑی ہے .......میں نے انہیں پار اتار دیا، وہ گاڑی میں بیٹھ کر یہ جا وہ جا، ہوا ہو گئے، اگلے دن علی الصباح گھوڑا اڑائے ویسیلائی سرگے یوچ صاحب گھاٹ پر نمودار ہوئے۔ پوچھنے لگے: سمیوں! میری بیوی تو کسی عینک والے آدمی کے ساتھ پار نہیں گئی؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اب میدانوں میں جا کر ہوا پر چنگل مارئیے!اس نے ان کے پیچھے بگٹٹ گھوڑا ڈال دیا، دن رات پانچ روز تک ان کا تعاقب جاری رکھا۔ واپسی پر جب میں اسے پار ااتار رہا تھا۔تو وہ بے دم ہو کر میری کشتی میں ڈھیر ہو گیا۔ اور اپنا سر تختوں پر پٹختا اور چیخیں مارمار کے روتا رہا۔ میں نے کہا: تو یہ معاملہ ہے۔ ہنس کے اسے یاد دلایا کہ لوگ سائے بیریا میں بھی لطف سے زندگی بسر کر سکتے ہیں! وہ اپنا سر اور زور سے پیٹنے لگا۔

    اس کے بعد آزادی کی ہوس اس کے دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ اس کی بیوی فرار ہو کر روس پہنچ چکی تھی، اس کے دل میں ہوک اٹھی کہ جا کر اسے عاشق کے پنجے سے چھڑاؤں، میاں! اس دن سے وہ مارا مارا صبح شام گھوڑے دوڑائے پھرنے لگا۔ کبھی ڈاک خانہ ہے، تو کبھی کمیدان کا دفتر، عرضیوں کا تانتا باندھ دیا کہ میرے حال پر رحم کیا جائے۔ اور روس واپس جانے کی اجازت دے دی جائے۔ زمین بیچ ڈالی۔ مکان یہودیوں کے ہاتھوں رہن کر دیا۔

    بال سفید ہو گئے۔ کمر جھک گئی۔ چہرہ دق کے ماروں کی طرح زرد پڑ گیا۔ بھلا چنگا ایکا ایکی کھی کھی کرنے لگتا۔ اور آنکھوں میں آنسو بھر لاتا۔ اس طرح آٹھ سال تک عرضیوں کا تانتا باندھے رکھا۔ مگر اب پھر اس کی جان میں جان آگئی ہے۔ کیوں نہ ہو؟ خیر سے بیٹی کے سیانے ہونے سے ایک نیا بہلاوا ہاتھ لگ گیا ہے۔ وہ اسے میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھتا ہے اور آنکھ کی پتلی کی طرح رکھتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ لڑکی میں کسی قسم کا عیب نہیں، اچھی شکل، کالی کالی بھنویں، مزاج میں شوخی، ہر اتوار کو اسے ساتھ لے کر گرجا جاتا تھا۔ دونوں کشتی میں پاس پاس کھڑے ہو جاتے، لڑکی مسکراتی ، اور باپ کی نظریں بیٹی کے مکھڑے سے پل بھر کو اٹھنے کا نام نہ لیتیں۔ کہتا: ہاں سمیوں سائے بیریا میں بھی زندگی لطف سے بسر ہو سکتی ہے، سائے بیریا میں بھی انسان خوش رہ سکتا ہے۔ میری بیٹی کو دیکھو ماشاء اللہ کتنی پیاری ہے! میں شرط لگاتا ہوں کہ اتنی پیاری لڑکی تم چراغ لے کر ڈھونڈو تب بھی نہیں پا سکتے، میں جواب دیتا، بے شک، تم ٹھیک کہتے ہو، تمہاری لڑکی میں کوئی خرابی نہیں، اور اپنے دل میں کہتا، ذرا صبر کرو .......اس کی اٹھتی جوانی ہے۔ خون میں ابال ہے، جی میں مرادیں ہیں۔ یہاں بھلا راگ رنگ کہاں؟ اور میاں لڑکی سچ مچ گھلنے لگی سوکھتی گئی، سوکھتی گئی، اور ایڑیاں رگڑ رگڑ رینگ رہی ہے، دق.......‘‘

    دیکھ لی آپ نے سائے بیریا کی خوشی، لعنت ہو کم بخت پر، یہاں زندگی اس طور سے بسر ہوتی ہے ....... خیر، تو اب ڈاکٹروں کی ڈھونڈ مچی، ایک کو چھوڑا، دوسرے کو پکڑا۔ آج اسے دکھا، کل اسے، جہاں کسی ڈاکٹر یا جادوگرکا پتہ چلا اور اسے لینے پہنچا، ڈاکٹروں کے پیچھے ہزاروں روپیہ برباد کر دیا۔ میرے نزدیک تو بہتر ہوتا کہ یہ روپیہ شراب میں اڑا  دیتا، لڑکی تو مر کر رہے گی، اب کسی کے بچائے نہیں بچتی، پھر اس کی کمر ٹوٹ جائے گی، اور اس کا یقین رکھو کہ یا تو صدمے سے خودکشی کرے گا۔ یا روس بھاگ جائے گا، فرار ہو گا، پکڑا جائے گا، مقدمہ چلے گا، سزا ہو گی؟‘‘

    تاتاری نے جو سردی میں سکڑ رہا تھا، ہڑبڑا کر کہا، ’’اچھا ہے، اچھا ہے! کیا اچھا ہے؟‘‘

    اس کی بیوی، اس کی بیٹی .......اس کے مقابلہ میں قید کی، صدمے کی کیا حقیقت ہے! اپنی بیوی، اپنی بیٹی کی شکل تو دیکھنے کو مل گئی....... تم کہتے ہو: کچھ نہ مانگو، یہ نہوت بری، اس کی بیوی تین سال تک اس کے ساتھ رہی، یہ پروردگار کی دین تھی، نہوت بری، تین سال اچھے، کچھ سمجھے بھی۔

    سردی سے اٹک اٹک کے اپنا مطلب ادا کرنے کے لیے روسی لفظ سوچ سوچ کر (اسے صرف گنتی کے روسی لفظ آتے تھے) تاتاری نے کہنا شروع کیا، کہ خدا وہ گھڑی نہ لائے کہ کوئی بیمار پڑے اور پردیس میں جان دے، اور ٹھنڈی ، کالی زمین میں گاڑا جائے، میری بیوی میرے پاس دن بھر نہ سہی گھنٹہ بھر کو آجائے، تو اس نعمت کے بدلے میں ہر طرح کا دکھ درد سہہ لوں گا، اور خدا کا شکر ادا کروں گا، خوشی کا ایک دن نہوت سے اچھا ۔

    وہ پھر اپنی حسین و ذہین بیوی کی حکایت لے بیٹھا،پھر اس نے اپنا سر ہاتھوں میں پکڑ لیا، اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، سمیوں کو اس نے یقین دلایا کہ میں بے گناہ ہوں، اور مفت میں مصیبت بھگت رہا ہوں، میرے دو بھائیوں اور چچا نے مل کر اس کسان کے گھوڑے پر ہاتھ صاف کیا تھا، اور انہی نے گھوڑے والے کو مار مار کے ادھ موا کیا تھا، پنچایت نے انصاف سے کام نہیں لیا، بلکہ کچھ ایسی کاری گری کی، کہ ہم بھائیوں کو کالا پانی ہو گیا، اور ہمارا پیسے والا چچا صاف چھٹ گیا۔

    سمیوں نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا، کچھ دنوں میں خودبخود جی لگ جائے گا۔

    تاتاری دم بخود بیٹھا اپنی اشک آلود آنکھوں سے آگ کی طرف دیکھتا رہا۔ چہرے سے ویرانی اور تردد پڑا ٹپکتا تھا، اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیوں گھر  سے اتنی دور اس تاریکی اور نمی میں انجان لوگوں کی صحبت میں پڑا سڑ رہا ہوں۔

    لال بجھکڑ آگ کےقریب لیٹے لیٹے کسی بات کا دھیان کرکے آپ ہی آپ ہنسا اور دھیمی لے سے دھن گنگنانے لگا۔

    تھوڑی دیر میں بولا، لڑکی کے لیے باپ کی صحبت میں کیا لطف؟ یہ ضرور ہے کہ وہ اسے دل و جان سے چاہتا ہے۔ مگر، بھائی اس کے سامنے انسان کو اپنے ش۔ ق کا خیال رکھنا پڑتا ہے، بڈھا مزاج کا سخت اور چڑچڑا ہے، جوان لڑکیوں کو بھلا سختی سے کیا سروکار؟ انہیں تو چاؤ چونچلے چاہئیں اور ہا ہا ہا! ہو ہو ہو، عطر چاہیے اور غازہ چاہیے۔ جی ہاں .......آہ زندگی، زندگی! سمیوں نے دقت کے ساتھ اٹھتے ہوئے ایک آہ کھینچی۔ شراب ختم۔ معلوم ہوا ہے۔ سونے کا وقت آ پہنچا۔ میاں، میں تو چلا .......‘‘

    تاتاری اکیلا رہ گیا، تو اس نے الاؤ میں کچھ اور ٹہنیاں ڈالیں۔ لیٹ رہا۔ اور شعلوں پر ٹکٹکی باندھ کر اپنی بیوی کے تصور میں ڈوب گیا۔ مہینہ بھر، دن بھر کو وہ میرے پاس آجائے۔ خواہ جی چاہے، تو پھر چلی جائے۔ ایک مہینہ یا ایک دن سدا کی محرومی سے  بہتر ہے۔ اچھا، فرض کرو، اس نے اپنے وعدہ کو پورا کیا۔ اور وہ آ بھی گئی۔ آخر کھائے گی تو کیا کھائے گی؟ رہے گی تو کہاں رہے گی؟

    سوچتے سوچے اس کی زبان سے نکلا، کھانے کو کچھ نہ ہوا تو رہے گی کیونکر؟

    دن رات چپو چلانے پر بھی کلہم، دس کو پک اس کے پلے پڑتے تھے، یہ سچ ہے کہ سواریاں شراب یا چائے کے لیے کچھ بخشش دے دیتی تھیں۔ وہ دوسرے ملاح آپس میں بانٹ لیتے تھے۔ اور نہ صرف بیچارے تاتاری کو سوکھا ٹرخاتے تھے، بلکہ اس کا الٹا مذاق اڑاتے تھے، خرچ کی تنگی کی وجہ سے وہ بھوک، سردی اور دہشت کا شکار تھا۔

    اب کہ وہ سردی کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا، اور اس کا جوڑ جوڑ ٹوٹا جاتا تھا۔ چاہیے تھا کہ وہ جھونپڑی میں جا کر پڑ رہتا، اور سو جاتا، مگر وہاں اس کے پاس اوڑھنے کو کوئی چیز نہ تھی، اور اندر سردی  باہر سے بھی زیادہ تھی،ساحل پر بھی اگرچہ اوڑھنے کو کچھ نہ تھا، مگر کم از کم آگ تو دہکا سکتا تھا۔

    ہفتہ بھر میں پانی اتر جائے گا اور چھوٹے ڈونگے چلنے لگیں گے اور سوائے سمیوں کے کسی ملاح کی ضرورت نہیں رہے گی، تب تاتاری گاؤں گاؤں روزگار ڈھونڈتا اور بھیک مانگتا پھرے گا۔ اس کی بیوی صرف سترہ سال کی تھی، خوب صورت، نازک مزاج، شرمیلی، کیا وہ بھی شرم و حیا چھوڑ، نقاب الٹ در بدر جھولی لیے پھرے گی؟ نہیں! اس کے خیال ہی سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔

    پو پھٹ رہی تھی، کشتی، پانی میں بید مجنوں کی جھاڑیاں، دریا کی لہریں صاف چمکنے لگی تھیں، پلٹ کردیکھنے سے ترچھی ریتلی ڈھال نظر آتی تھی، اس کے دامن میں چھپر کی جھونپڑی تھی، ذرا اوپر گاؤں کی جھونپڑیاں پاس پاس پڑی تھیں، گاؤں میں مرغ بانگ دینے لگے تھے۔

    تاتاری سوچنے لگا کہ یہ سرخ ریتلی ڈھال، کشی، دریا، اجنبی کھرے لوگ، بھوک، پیاس، بیماری، شاید یہ سب مایا ہو، بعید نہیں کہ یہ سب کچھ صرف خواب نکلے، اسے ایسامعلوم ہوا کہ میں سو رہا ہوں، اور اپنے خراٹوں کی آواز میرے کانوں میں آرہی ہے ....... وہ اپنے وطن سمبرسک میں ہے، اس نے اپنی بیوی کا نام لے کر پکارا، اور وہ بولی۔ دوسرے کمرے میں اس کی ماں ہے۔ لوگ کیسے کیسے دردناک خواب دیکھتے ہیں، خواب آخر آتے کیوں ہیں؟ تاتاری نے مسکرا کر آنکھیں کھولیں۔ یہ کون سا دریا ہے؟ والگا؟

    برف پڑ رہی تھی۔

    ’’کشتی!‘‘ دریا کے دوسرے کنارے پر کوئی شخص چیخ رہا تھا، ’’کشتی!‘‘

    تاتاری چونک کر اٹھ بیٹھا اور دوسری طرف جانے کے لیے اپنے ساتھیوں کو جگانے لگا، رواروی میں پھٹی پرانی بھیڑ کی کھالیں پہن، اپنی بھاری، نیند بھری آواز میں گالیاں دیتے، سردی سے ٹھٹھرتے ملاح گھاٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ کچی نیند سے اٹھ کر دریا کی تیز ہوا ان کے بدن کے پار ہوئی جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ سب اچھل کر کشتی میں سوار ہوئے .......تاتاری اور تین اور ملاحوں نے بڑے بڑے، چوڑے پھل کے پتوار سنبھالے جو اندھیروں میں کیکڑوں کے پنجے معلوم ہوتے تھے، سمیوں پیٹ کے بل پتوار کر پیرم کے سہارے لیٹ گیا، دوسرے کنارے سے چیخنے کی آواز بدستور آ رہی تھی، دو مرتبہ تمنچہ شاید اس خیال سے چلایا گیا کہ ممکن ہے ملاح سو رہے ہوں، یا گاؤں کے شراب خانے میں گئے ہوئے ہوں۔

    ’’سن لیا، آخر ایسی کیا گھبراہٹ ہے؟‘‘ لال بجھکڑ کے لہجے سے ٹپکتا تھا کہ اس میں جلدی کرنا فضول ہے، یا کم از کم جلدی کا کوئی نتیجہ نہیں۔

    لمبی چوڑی ، بھدی ناؤ کنارے سے روانہ ہوئی، اور بید مجنوں کی جھاڑیوں میں سے ہو کر چلنے لگی، درخت چلتے نظر آتے تھے۔ اور صرف اسی بات سے اندازہ ہوتا تھا کہ کشتی ساکن نہیں، بلکہ حرکت میں ہے، ملاح جچے تلے ہاتھوں سے چپو چلا رہے تھے، لال بجھکڑ پیٹ کے بل کمان کی شکل لیٹا تھا، کبھی اس طرح کو لڑھک جاتا کبھی اس طرف کو۔ اندھیرے میں یہ معلوم ہوتا تھا کہ ملاح کسی باوا آدم کے وقت کے لمبے لمبے پنجوں والے دقیانوسی جانور کی پشت پر بیٹھے ایک برفانی لق و دق ملک میں سے جا رہے ہیں، ایک ایسے ملک میں جو کبھی کبھی ڈراؤنے خواب میں دکھائی دیتا ہے۔ ناؤ بید مجنوں کی جھاڑیوں سے نکل کر کھلے دریا پر بہنے لگی، چپوؤں کے برابر چلنے کی آواز دریا کے دوسرے کنارے پر سنائی دیتی تھی، کوئی شخص چلائے جا رہا تھا۔

    ’’جلدی کرو! جلدی کرو!‘‘

    دس منٹ کے بعد ناؤ زور سے گھاٹ سے جا ٹکرائی۔

    سمیوں اپنے منہ سے برف پونچھتے ہوئے بڑبڑایا۔ برف کی بوچھاڑ ہے کہ ختم ہونے کو نہیں آتی، خدا جانے اتنی برف کہاں سے نازل ہوتی ہے۔

    کنارے پر ایک میانہ قدو قامت کا مختصر سا آدمی لومڑی کی کھال کا چھوٹا کوٹ پہنے، سفید بھیڑ کی کھال کی ٹوپی اوڑھے، بے حس و حرکت اپنے گھوڑے سے الگ ہٹ کر کھڑا تھا۔ غم و اندوہ اور ازخودرفتگی اس کے چہرے پر لکھی ہوئی تھی۔ گویا کوئی بھولی بسری بات یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے ناقص حافظہ پر دانت پیس رہا ہے، سمیوں اس کےقریب پہنچا او رمسکرا کر ٹوپی اتاری، اس نے کہا: ’’مجھے انستا سانیفسکا جانے کی جلدی ہے۔ میری لڑکی کی حالت پھر خراب ہو گئی ، سنا ہے کہ وہاں کوئی نیا ڈاکٹر آیا ہے۔‘‘

    گاڑی ناؤ میں دھکیلی گئی اور ملاحوں نے اسے بہا ؤ کے خلاف کھینچنا شروع کیا۔ وہ شخص جسے سمیوں نے ویسیلائی سرگے یوچ کے نام سے پکارا تھا، بالکل ساکت کھڑا اپنے موٹے موٹے ہونٹ دبائے ناک کی سیدھ میں دیکھتا رہا۔ کوچوان نے اس سے سگریٹ پینے کی اجازت مانگی تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔ سمیوں نے اس کی طرف طنز کی نظر سے دیکھا۔ اور کہا ’’جی ہاں‘‘ سائے بیریا میں بھی لوگ لطف سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، لطف سے! لال بجھکڑکے چہرے پر فاتحانہ رنگ جھلک رہا تھا، جیسے اس نے کوئی بات ثابت کر دی، اور اسے خوشی ہے کہ میری پیشین گوئی پوری ہو کے رہی، صاف ظاہر تھا کہ وہ ویسیلائی سرگے یوچ کی غمزدہ بے بسی سےبہت لطف اٹھا رہا ہے۔

    جب گھوڑے ساحل پر پہنچ کر جوتے جانے لگے، تو اس نے کہا ’’ویسیلائی سرگے یوچ اس موسم میں آپ کو بہت کیچڑ ملے گی، آپ کو چاہیے تھا کہ ابھی زمین کے سوکھنے تک توقف کرتے، یا سرے سے سفر کا خیال ہی دل سے نکال دیتے، سفر سے کچھ حاصل ہو، تب بھی ایک بات ہے۔ مگر آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ سالہا سال سے دن رات ادھر سے ادھر حیران و پریشان مارے مارے پھرتے ہیں، ایمان کی بات تو یہ ہے کہ اس دوڑ دھوپ کا نتیجہ خاک نہیں نکلتا۔‘‘

    ویسیلائی سرگے یوچ چپ چاپ اسے انعام دے کر گاڑی میں بیٹھا اور روانہ ہو گیا۔

    سمیوں نے سردی سے سکڑ کر کہا ’’پھر وہی ڈاکٹر کی تلاش! گویا معقول ڈاکٹر کا ملنا اتنا ہی آسان ہے، جتنا میدان کی ہوا کا، یا شیطان ملعون کی دم کا ہاتھ آنا،عجب آدمی ہے! خدایا، مجھ گناہ گار کو معاف کر!‘‘

    تاتاری، لال  بجھکڑ کے قریب پہنچا، اور تھوڑی دیر تک اسے نفرت اور بیزاری کی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر سردی سے تھرتھراتے اپنی ٹوٹی پھوٹی روسی میں تاتاری الفاظ گڈمڈ کرکے اس نے کہنا شروع کیا ’’وہ نیک ہیں، نیک اور تم برے ہو! تم برے ہو! ان کی روح پاک ہے اور تم حیوان ہو، پلید! وہ زندہ ہیں اور تم ایک مردہ لاش ہو۔ خدا نے انسان کو اس لیے بنایا ہے کہ دکھ سکھ سہے، تمہارے دل میں کوئی خواہش نہیں، تم بے جان ہو .......تم پتھر ہو، مٹھی کا ڈھیر ہو!

    اللہ میاں تمہیں نہیں چاہتا، انہیں چاہتا ہے!‘‘

    ملاح ہنسنے لگے، تاتاری کی پیشانی پر حقارت سے بل آگیا۔ ہاتھ کے ایک جھٹکے سے اس نے اپنے پھٹے پرانے چیتھڑے بدن سے لپیٹ لیے، اور الا ؤ کے قریب چلا گیا، سمیوں اور دوسرے ملاح ٹہلتے ہوئے جھونپڑی کی طرف چلے گئے۔

    ایک ملاح خشک گھاس پر لیٹے ہوئے بھاری آواز میں بولا ’’سردی ہے!‘‘

    دوسرے نے اتفاق کیا ’’ہاں! گرمی نہیں ہے، زندگی کیا ہے جنجال ہے.......‘‘

    سب لیٹ گئے، دروازہ ہوا کے جھونکے سے کھل گیا، اور برف کی بوچھاڑ اندر آنے لگی، کسی میں مارے سردی اور کاہلی کے اتنی ہمت نہ ہوئی کہ اٹھ کر دروازہ بند کر دیتا۔

    سمیوں غنودگی کا جھونکا آتے وقت بولا ’’میں تو مزے میں ہوں، خدا سب کو ایسی زندگی نصیب کرے!‘‘

    ’’تمہاری دلاوری کا لوہا ہم سب مانتے ہیں، شیاطین بھی تمہیں ہاتھ نہیں لگائیں گے!‘‘

    باہر سے ایسی چیخیں آئیں جیسے کوئی کتا بھوں بھوں کر رہا ہے۔

    ’’کیا ہے؟ کون ہے؟‘‘

    ’’تاتاری باہر بیٹھا سو رہا ہے۔‘‘

    ’’عجب دیوانہ ہے!‘‘

    سمیوں نے کہا ’’رفتہ رفتہ عادی ہو جائے گا۔‘‘ اور فوراً اس کی آنکھ لگ گئی۔باقی لوگ بھی تھوڑی دیر میں سو گئے۔ دروازہ کھلا پڑا رہا۔