خودبیتی
شام کا جھٹپٹا، گیلی برف کے بڑے بڑے گالے بازار کے لیمپوں کے اردگرد جو ابھی جلائے گئے ہیں، دھیمی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ چھتوں پر، گھوڑوں کی پیٹھ پر، بازوؤں پر، ٹوپیوں پر، برف کی باریک، نرم تہہ جمی ہوئی ہے۔ گاڑن بان ایونا، بھوت کی طرح سفید براق، کوچ بکس پر بے حس و حرکت گٹھڑی بنا بیٹھا ہے۔ اس سے زیادہ جھکنا انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر برف کے تودے کے تودے اس پر آ پڑیں تب بھی انہیں جھٹکنا ضروری نہیں سمجھے گا۔ اس کی سوکھی سہمی گھوڑی بھی سفید اور ساکت ہے۔ اس کے سکوت ، جسم کے پیچ و خم ، اور بانس کی سی سیدھی ٹانگوں کو دیکھ کر اس پر ٹکے کی مٹھائی کے گھوڑے کا شبہ ہوتا ہے۔ شاید کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ جس غریب کوہل مکھبر سے، ان مٹیالے مناظر سے، جو اس کی آنکھوں میں بسے ہوئے ہیں، زبردستی چھڑا کر اس جنجال میں پھنسا دیا جائے۔ جہاں ڈراؤنی روشنیاں، غل غپاڑا، لوگوں کی لگاتار انتھک دوڑ دھوپ ہو، وہ سوچ میں کیسے نہ پڑے؟
ایونا اور اس کی گھوڑی کو ایک جگہ سے ہلے بہت دیر ہو گئی تھی، دوپہر سے پہلے نکلے تھے اور اب تک ایک سواری نہیں ملی۔ شہر پر شام کی تاریکی چھا رہی ہے، بازار کے لیمپوں کی دھندلی روشنی تیز ہو رہی ہے۔ اور سڑک کا شور و شغب بڑھ رہا ہے۔
’’وائی برگ اسکایا کے لیے گاڑی!‘‘ ایونا کے کان میں آواز آتی ہے: ’’گاڑی!‘‘
ایونا چونک پڑتا ہے اور اپنی برف سے ڈھکی ہوئی پلکوں میں سے ایک افسر کو دیکھتا ہے جو بڑا فوجی کوٹ پہنے کھڑا ہے۔
’’وائی برگ اسکایا کو!‘‘ افسر پھر کہتا ہے۔ ’’سو رہے ہو؟ وائی برگ اسکایا کو!‘‘
افسر کی بات سمجھ کر ایونا باگ کو جھٹکا دیتا ہے، برف کے ٹکڑے گھوڑی کی پیٹھ اور پٹھوں پر سے ہوا میں اڑتے ہیں، افسر گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے، گاڑی بان گھوڑی کو للکارتا ہے۔ بط کی طرح گردن آگے کو نکالتا ہے، اپنی جگہ پر اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اور گواس کی ضرورت نہیں، مگر عادت کے مطابق چابک چٹخاتا ہے۔ گھوڑی بھی گردن آگے کو نکالتی ہے، اپنی بانس کی سی ٹانگیں سکیڑتی ہے اور بادل ناخواستہ چلنے لگتی ہے۔
تاریکی کے انبار میں سے جو اس کے سامنے ادھر سے ادھر گردش کر رہا ہے، ایونا کے کان میں چیخوں کی آواز آتی ہے، شیطان، کہاں گھسا چلا آتا ہے؟ کدھر پلا پڑتا ہے؟ ذرا دائیں کو چل!
’’تمہیں چلانا نہیں آتا! دائیں کو چلاؤ‘‘ افسر بگڑ کر کہتا ہے۔
ایک کوچوان جو کسی کی ذاتی گاڑی چلا رہا ہے، اسے جھڑکتا ہے۔ سڑک پار کرتے ہوئے ایک راہ گیر کے شانے گھوڑی کی ناک سے رگڑ کھاتے ہیں۔ وہ اس کی طرف غصے کی نظروں سے دیکھتا ہے اور اپنی آستین جھٹکتا ہے۔ ایونا بکس پر اس طرح پہلو بدلتا ہے، جیسے کانٹوں پر ہے۔ کہنیاں ہلاتا ہے اور چاروں طرف مبہوت ہو کر کھوئی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے، کہ کہاں ہوں، اور جہاں ہوں، وہاں کیوں ہوں۔
’’یہ سب لوگ کتنے بدمعاش ہیں!‘‘ افسر ازراہِ تمسخر کہتا ہے ’’پوری کوشش کرتے ہیں کہ تمہارے راستے میں حائل ہوں، یا گھوڑی کے پاؤں سے کچلے جائیں، ضرور جان بوجھ کر یہ شرارت کرتے ہیں۔‘‘
ایونا اپنی سواری کی طرف دیکھتا ہے، اور اپنے ہونٹ ہلاتا ہے .......بظاہر کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر سوائے سوں سوں کے منہ سے کچھ نہیں نکلتا۔
’’کیا کہا؟‘‘ افسر پوچھتا ہے۔
ایونا کھسیانا ہو کر مسکراتا ہے۔ اورگلے پر زور ڈال کر روکھی آواز سے بمشکل یہ لفظ ادا کرتا ہے:
’’میرا لڑکا .......میرا لڑکا اس ہفتہ گزر گیا، حضور۔‘‘
’’ہوں! کیا شکایت تھی؟‘‘
ایونا پوری طرح سواری کی طرف پلٹ کر کہتا ہے:
’’خدا جانے! بخار ہو گا .......تین دن ہسپتال میں پڑا رہا، اس کے بعد گزر گیا، جو خدا کی مرضی۔‘‘
’’شیطان مڑ کر دیکھ!‘‘ اندھیرے سے آواز آتی ہے۔ ’’کتے۔ باؤلا ہو گیا ہے؟ آنکھیں کھول کر دیکھ کدھر چلا جا رہا ہے!‘‘
’’چلے چلو! چلے چلو!‘‘ افسر کہتا ہے۔ ’ ’ اس رفتار سے توکل تک بھی نہیں پہنچ سکتے، تیز چلو!‘‘
گاڑی بان پھر گردن آگے کو نکالتا ہے، اپنی جگہ اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے، چابک گھماتا ہے، کئی بار پھر کر افسر کی طرف دیکھتا ہے، افسر نے آنکھیں میچ لی ہیں، اور بات چیت کرنا نہیں چاہتا۔
وائی برگ اسکایا پر سواری کو اتار کر ایونا ایک قہوہ خانے کے پاس گاڑی کھڑی کر تا ہے، اور پھر سکڑ کر بکس پر بیٹھ جاتا ہے۔ ایک گھنٹہ گزرتا ہے، پھر دوسرا .......
تین نوجوان، دو کشیدہ قامت، اور دبلے پتلے، ایک پستہ قد اور کبڑا، ایک دوسرےپر فقرے کستے، اپنے برساتی جوتے پہنے، کھٹ کھٹ کرتے ہوئے اس طرف آتے ہیں۔
’’گاڑی بان ! لولس کے پل کو چلو!‘‘ کبڑا جھوجھری آواز سے چلاتا ہے۔ ’’تینوں کے .......بیس کوپک!‘‘
ایونا باگ کھینچتا ہے، اور گھوڑی کو للکارتا ہے۔ اصل کرایہ بیس کوپک سے زیادہ ہوتا ہے۔ مگر اسے اس کا خیال نہیں، ایک روبل ہو یا پانچ کوپک، اس کی پرواہ نہیں بس سواری مل جائے۔ تینوں آدمی ایک دوسرے کو دھکیلتے ، بدزبانی کرتے، گاڑی کی طرف آتے ہیں اور تینوں یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایک ساتھ بیٹھ جائیں۔ تصفیہ طلب سوال یہ ہے ،کون سے دو بیٹھیں اور کون کھڑا رہے۔ لمبے چوڑے بحث مباحثے، تو تو میں میں، گالی گلوچ کے بعد یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کبڑا کھڑا رہے، کیونکہ وہ سب سے مختصر ہے۔
’’چلو‘‘ کبڑا کھڑا ہو کر کہتا ہے، ایونا کی پیٹھ پر اس کا سانس محسوس ہوتا ہے۔ ’’فروٹ ہو جاؤ! دوست، تمہاری ٹوپی عجیب و غریب ہے، اس سے ردی ٹوپی سارے پیٹر برگ میں ڈھونڈے سے نہیں ملے گی۔‘‘
’’ہی ہی ! ہی ہی!‘‘ ایونا ہنستا ہے۔ ’’بس گزارے کے لائق ہے۔‘‘
’’خیر! جناب گزارے کے لائق ، ذرا تیز چلیے، تمام راستے اسی چال سے چلو گے؟ کیوں؟ دوں تان کر ایک چٹاخا؟‘‘
’’میرا سر پھٹا جاتا ہے‘‘ کشیدہ قامت نوجوانوں میں سے ایک کہتا ہے ۔ ’’دکما سوف، کے ہاں کل واسکا اور میں مل کر برانڈی کی چار بوتلیں اڑا گئے۔‘‘
’’سمجھ میں نہیں آتا تم اتنی بکواس کیوں کرتے ہو۔‘‘ دوسرا کشیدہ قامت نوجوان خفا ہو کر کہتا ہے’’وحشیوں کی طرح جھوٹ بکتے ہو۔‘‘
’’اپنی جان کی قسم ! سچ کہتا ہوں!‘‘
’’یہ ایسا ہی ہے، جیسے یہ کہنا کہ جوں کھانستی ہے۔‘‘
’’ہی ہی!‘‘ ایونا ہنستا ہے۔ ’’صاحب لوگ مذاق کرتے ہیں!‘‘
’’مردود!‘‘ کبڑا غصے میں آ کر چیختا ہے، چلاتا ہے۔’’ملعون سنتا نہیں؟ گاڑی یوں چلائی جاتی ہے؟ چلانے کا یہ طریقہ ہے؟ لگا ایک چابک۔ کم بخت کی چابک سے خبر لے۔‘‘
ایونا کو اپنے پیچھے کبڑے کے ہلنے جلنے اور کانپتی ہوئی آواز کا احساس ہوتا ہے، وہ سنتا ہے کہ مجھے گالیاں دی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو دیکھتا ہے، اور تنہائی کا بوجھ اس کے دل پر سے ہلکا ہو جاتا ہے، کبڑا اسے برا بھلا کہتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے لچھے دار گرم گرم فقروں سے اس کے گلے میں پھندا پڑ جاتا ہے، اور کھانسی اس کی زبان بند کر دیتی ہے۔ اس کے کشیدہ قامت رفیق ندائر داپتر وونا ایک عورت کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ ایونا ان کی طرف دیکھتا ہے، تھوڑی دیر انتظار کرکے، جب وہ باتیں کرتے کرتے چپ ہو جاتے ہیں، تو پھر مڑ کر دیکھتا ہے اور کہتا ہے:
’’اس ہفتے .......میرا.......لڑکا گزر گیا!‘‘
’’سب کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے‘‘ کبڑا ٹھنڈا سانس کھینچتا ہے اور کھانس کر ہونٹ پونچھتا ہے۔ ’’خیر تیز چلائو تیز۔ یارو، مجھ سے یہ چیونٹی کی چال نہیں دیکھی جاتی! نہ معلوم کب پہنچائے گا؟‘‘
’’ذرا اس کی ہمت بڑھا ؤ .......لگا ؤ گردن پر ایک ہاتھ!‘‘
’’ملعون سنتا ہے؟ مزا چکھا دوں گا، تم لوگوں کا لحاظ کرنے سے پیدل چلنا اچھا بھتنے، سنتا ہے؟ یا جو کچھ ہم لوگ کہہ رہے ہیں، تیری جوتی کی نوک سے؟‘‘
ایونا کی پیٹھ پر تھپڑ پڑتا ہے، جس کا تڑاخا اسے چوٹ سے زیادہ سنائی دیتا ہے۔
’’ہی ہی !‘‘ وہ ہنستا ہے۔ ’’صاحب لوگ مذاق کرتے ہیں، خدا آپ صاحبوں کو سلامت رکھے!‘‘
’’گاڑی بان تمہاری شادی ہو چکی ہے؟‘‘ ایک کشیدہ قامت پوچھتا ہے۔
’’میری ہی ہی ! صاحب لوگ مذاق کرتے ہیں۔ اب گیلی مٹی ہی میری دلہن بنے گی.......‘‘
’’ہو ہو ہو ! یعنی قبر ! ذرا سوچو، میرا بیٹا چل بسا، اور میں ہٹا کٹا موجود ہوں، عجب معاملہ ہے۔ موت اٹکل پچو زنجیر کھٹکھٹاتی ہے۔ میرے پاس آنے کے بجائے میرے لڑکے کوجا دبوچا.......‘‘
ایونا مڑ کر انہیں اپنے بیٹے کی موت کا حال سناتا ہے، مگر یہاں پہنچ کر کبڑا ہلکی سی آہ بھر کر کہتا ہے :’’شکر ہے منزل مقصود پر آ پہنچے۔‘‘ اپنے بیس کوپک لے کر ایونا دیر تک ان اوباشوں کی طرف دیکھتا رہتا ہے، وہ ایک اندھیرے پھاٹک میں داخل ہو کر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ ایونا کے لیے پھر وہی تنہائی، وہی ہو کا عالم چھا جاتا ہے۔ جو صدمہ گھڑی بھر کو ہلکا ہو گیا تھا، وہ پھر ابھر آتا ہے اور اس کے دل پر انتہائی شدت سے ٹوٹتا ہے۔ اس کی نظروں سے غم و اندوہ ٹپکتا ہے، وہ بے چین نگاہوں سے سڑک کے دونوں طرف لوگوں کی ریل پیل پر نظریں ڈالتا ہے۔ کیا اس ہزاروں کے مجمعے میں کوئی اللہ کا بندہ ایسا نہیں۔ جو اس کی دکھ بھری کتھا سنے؟ لوگ اس سے، اس کے غم سے غافل گزر چلے جاتے ہیں .......اس کا غم بے انتہا سخت، اندازے سے باہر ہے، اگر اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اس کا غم اس سے پھوٹ بہے، تو وہ تمام دنیا میں سیلاب کی طرح پھیل جائے ، پھر بھی وہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ اس نے ایک ایسے حقیر خول میں چھپنے کو جگہ نکالی ہے کہ دن کے وقت چراغ لے کر ڈھونڈو تب بھی نہ دکھائی دے.......
ایونا کی نظر ایک دربان پر پڑتی ہے، جس کے ہاتھ میں ایک پلندہ ہے، وہ اس سے بات چیت کرنے کی ٹھانتا ہے۔
’’بھئی کیا وقت ہو گا؟‘‘
’’دس بجا چاہتے ہیں ....... یہاں کیوں کھڑے ہو؟ آگے بڑھو!‘‘
ایونا چند قدم آگے بڑھ جاتا ہے، اتنا جھکتا ہے کہ دوہرا ہو جاتا ہے، اور اپنے غم میں ڈوب جاتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ لوگوں سے کسی قسم کی امید رکھنا بے سود ہے۔ پانچ منٹ نہیں گزرتے کہ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ سر اس طرح ہلاتا ہے جیسے سخت درد میں مبتلا ہے اور باگ کھینچا ہے .......اب اس سے تکلیف نہیں سہی جاتی۔
’’واپس اصطبل کو!‘‘ اپنے دل میں کہتا ہے۔’’اصطبل کو!‘‘
گھوڑی اس کے خیالا ت کو تاڑ کر دلکی چلنے لگتی ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد ایونا ایک غلیظ آتش دان کے پاس بیٹھا ہے، آتش دان پر، فرش پر، بنچوں پر لوگ پڑے خراٹے لے رہے ہیں۔ ہوا بو میں بسی ہوئی اور کثیف ہے۔ ایونا سونے والوں کی طرف آتا ہے۔ اپنا بدن کھجاتا ہے اور افسوس کرتا ہے کہ ناحق اتنے سویرے گھر واپس آیا۔
مزدوری سے دانے کے دام بھی نہیں نکلیں گے، سوچتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اتنا غمگین ہوں جو اپنا کام ٹھکانے سے کرتا ہے ....... جسے پیٹ بھر کھانے کو میسر ہے، جس کے گھوڑے کو پیٹ بھر دانا ملا ہے، وہ ہمیشہ چین سے رہتا ہے .......
ایک کونے میں سے ایک نو عمر گاڑی بان اٹھتا ہے، کچھ سوتے، کچھ جاگتے کھنکھارتا ہے۔ اور پانی کی بالٹی کا رخ کرتا ہے۔
’’کچھ پیو گے ؟‘‘ ایونا پوچھتا ہے۔
’’معلوم تو ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘
’’خداراس لائے! ...... بھئی، دیکھو میرا بیٹا گزر گیا ....... سنتے ہو؟ اس ہفتے ہسپتال میں ....... عجیب معاملہ ہے۔‘‘
ایونا دیکھتا ہے کہ اس کے لفظوں کا کیا اثر ہوا، مگر کچھ نظر نہیں آتا۔ نوجوان اپنا منہ لپیٹ کر سو جاتا ہے۔ بڈھا آہ بھرتا ہے اور اپنا بدن کھجاتا ہے ....... جس طرح نوجوان کوپانی کی پیاس تھی، اسی طرح وہ بات چیت کا پیاسا ہے، اس کے لڑکے کو مرے عنقریب ہفتہ بھر ہو جائے گا، اور اب تک اسے کسی سے کھل کر باتیں کرنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ اس بارے میں ٹھکانے سے جی بھر کر باتیں کرنا چاہتا ہے ....... وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ میرا بیٹا کس طرح بیمارپڑا، اس نے کیا کیا تکلیفیں اٹھائیں، مرتے وقت کیا کہا، کیونکر مر ا....... وہ چاہتا ہے کہ جنازے کا حال سنائے اور بتائے کہ کیونکر اپنے لڑکے کے کپڑے لینے ہسپتال گیا، اس کی لڑکی ایسیادیہات میں رہتی ہے....... وہ چاہتا ہے کہ اس کا بھی ذکر کرے .......ہاں، اب اسے بہت کچھ کہنا سننا ہے، جس سے وہ باتیں کرے، اسے چاہیے کہ ٹھنڈی آہیں بھرے، تعجب کا اظہار کرے، اور اس کے سوگ میں شریک ہو .......اگر عورتیں بات کرنے کو مل جائیں تو اور بھی اچھا ہو، گو وہ بے وقوف ہوتی ہیں، اور بات شروع نہیں ہوتی کہ بسورنے لگتی ہیں۔
’’چلیں‘‘ گھوڑی کو ایک نظر دیکھ آئیں، ایونا سوچتا ہے، سونے کے لیے بہت وقت پڑا ہے ....... نیند کہیں نہیں گئی .......
کوٹ پہن کر گھوڑی کے تھان میں داخل ہوتا ہے، اسے دانے چارے، موسم کا خیال آتا ہے ....... تنہائی میں وہ اپنے لڑکے کا خیال نہیں کر سکتا .......کسی اور سے اس کا ذکر کر سکتا ہے ....... مگر اس کا خیال کرنا اور تصور باندھنا، یہ اذیت اس کی برداشت سے باہر ہے۔
’’دانہ چبا رہی ہو؟‘‘ اپنی گھوڑی کی روشن آنکھیں دیکھ کر پوچھتا ہے ۔’’اچھا جگال کیے جا ؤ، کئے جا ؤ .......دانے کے لیے کافی مزدوری نہیں ملی تو نہ سہی، گھاس کھا کر گزارہ کر لیں گے ....... ہاں ....... میری عمر اب گاڑی چلانے کی نہیں رہی، اب میرا نہیں، میرے لڑکے کا کام سنبھالنے کا وقت تھا ....... وہ پوراگاڑی بان تھا .......اسے کچھ دن اور جینا تھا .......‘‘
ایونا تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو جاتا ہے، پھر کہتا ہے:
’’بیٹی ، بات یہ ہے .......کوزما ایونچ چل بسا ....... مجھ سے رخصت ہو گیا، بلاوجہ، اچانک جان دے دی ....... اچھا یوں سمجھو کہ تمہارا ایک بچھڑا ہے، اور تم اس ننھے سے بچھڑے کی ماں ہو ....... اور یکایک وہ بچھڑا مر جائے .......تو تمہیں اس کا رنج ہو گا کہ نہیں.......؟‘‘
گھوڑی منہ چلاتی ہے، سنتی ہے اور اپنے مالک کے ہاتھوں پر سانس لیتی ہے۔ ایونا کا دل بھر آتا ہے، اور وہ اس کے سامنے اپنا دل چیر کر رکھ دیتا ہے۔