نارسائی
درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے کہ ان کی جڑیں کھوکھلی ہو چلی ہیں، مگر ان میں ہر شاخ بزدل ہے یا مبتلا خود فریبی میں شاید کہ ان کرم خردہ جڑوں سے وہ اپنے لیے تازہ نم ڈھونڈتی ہے! میں مہمان خانے کے سالون میں ایک صوفے میں چپ چاپ دبکا ہوا تھا، گرانی کے باعث وہاں دختران عجم تو نہ تھیں ہاں کوئی بیس گز پر فقط ایک چہرہ تھا جس کے خد وخال کی چاشنی ارمنی تھی! زمستاں کے دن تھے، لگاتار ہوتی رہی تھی سر شام سے برفباری دریچے کے باہر سپیدے کے انبار سے لگ گئے تھے مگر برف کا رقص سیمیں تھا جاری، وہ اپنے لباس حریری میں پاؤں میں گلہائے نسریں کے زنگولے باندھے، بدستور ایک بے صدا، سہل انگار سی تال پر ناچتی جا رہی تھی! مگر رات ہوتے ہی چاروں طرف بے کراں خامشی چھا گئی تھی خیاباں کے دو رویہ سرو و صنوبر کی شاخوں پہ یخ کے گلولے، پرندے سے بن کر لٹکنے لگے تھے، زمیں ان کے بکھرے ہوےبال و پر سے کف آلود سا ساحل بنتی چلی جا رہی تھی! میں اک گرم خانے کے پہلو میں صوفے پہ تنہا پڑا سوچتا تھا، بخاری میں افسردہ ہوتے ہوئے رقص کو گھورتا تھا، ”اجازت ہے میں بھی ذرا سینک لوں ہاتھ اپنے“ (زباں فارسی تھی تکلم کی شیرینیاں اصفہانی!) ”تمہیں شوق شطرنج سے ہے ؟“ (اُٹھا لایا میں اپنے کمرے سے شطرنج جا کر ) ”بچو فیل____ اسپ سیاہ کا توخانہ نہیں یہ ____ بچاؤ وزیر____ اور لو یہ پیادے کی شہ لو __ اور اک اور شہ! اور یہ آخری مات ! بس ناز تھا کیا اسی شاطری پر ؟“ میں اچھا کھلاڑی نہیں ہوں مگر آن بھر کی خجالت سے میں ہنس دیا تھا ! ”ابھی اور کھیلو گے ؟“ لو اور بازی ___ یہ اک اور بازی ... یونہی کھیلتے کھیلتے صبح ہونے لگی تھی ! موذن کی آواز اس شہر میں زیر لب ہو چکی ہے سحر پھر بھی ہونے لگی تھی ! وہ دروازے جو سال ہاسال سے بند تھے آج وا ہو گئے تھے ! میں کرتا رہا ہند و ایراں کی باتیں: ”اور اب عہد حاضر کے ضحاک سے… رستگاری کا رستہ یہی ہے کہ ہم ایک ہو جائیں ،ہم ایشیائی ! وہ زنجیر ، جس کے سرے سے بندھے تھے کبھی ہم وہ اب سست پڑنے لگی ہے ، تو آؤ کہ ہے وقت کا یہ تقاضا کہ ہم ایک ہو جائیں____ہم ایشیائی !“ میں روسی حکایات کے ہرزہ گو نو جوانوں کے مانند یہ بے محل وعظ کرتا رہا تھا ! اسے صبحدم اس کی منزل پہ جب چھوڑ کر آ رہا تھا ، وہ کہنے لگی: ”اب سفینے پہ کوئی بھروسہ کرے کیا سفینہ ہی جب ہو پر و بال طوفاں؟ یہاں بھی وہاں بھی وہی آسماں ہے ، مگر اس زمیں سے خدایا رہائی خدایا دہائی! ٹھکاناہے لوطی گری،رہزنی کا ! یہاں زندگی کی جڑیں کھوکھلی ہو چکی ہیں ، فقط شاخساریں ابھی اپنی افتاد کے حشر سے ہیں گریزاں ! یہ بچپن میں ،میں نے پڑھی تھی کہانی کہا ساحرہ نے : ”کہ اےشہزادے رہ جستجو میں اگر اس لق و دق بیاباں میں دیکھا پلٹ کر، تو پتھر کا بت بن کے رہ جائے گا تُو!“ جہاں سب نگاہیں ہو ماضی کی جانب وہاں راہرو ہیں فقط عازم نارسائی!““ تو دن بھر یہی سوچ تھی کیا ہمارے نصیبے میں افتاد ہے، کوئی رفعت نہیں ؟ کوئی منزل نہیں ہے ؟